بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹربیونلز کی تشکیل کا معاملہ: پی ٹی آئی کے چیف جسٹس پر اعتراض، عدالت برہم

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں الیکشن ٹربیونلزکی تشکیل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پرسماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی پر اعتراض اٹھا دیا جس پر عدالت نے اظہار برہمی کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے، بینچ میں جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال مندوخیل ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہیں۔
سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان پر اعتراض اٹھا دیا، وکیل پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ہم اپنا اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، کیس کو کسی اور بینچ میں بھیجا جائے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل کا اعتراض ہے کہ چیف جسٹس بینچ میں نہ بیٹھیں، یہ کیس کسی دوسرے بینچ کو بھیجا جائے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا اعتراض سن لیا ہے اب آپ تشریف رکھیں، اس وقت الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل دے رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا سے سے استفسار کیا کہ ہم نے آپ سے پہلی سماعت پر پوچھ لیا تھا کہ کوئی اعتراض ہے ؟ آپ نے جواب دیا تھاکہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، کیوں نا نیاز اللہ نیازی کا کیس پاکستان بار کونسل کو بھجوا دیں؟
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا ہم اپنی بے عزتی کے لیے یہاں بیٹھے ہیں؟ بینچ میں نے تشکیل نہیں دیا، کمیٹی نے بینچ تشکیل دیا ہے۔
چیف جسٹس اور بینچ کی تشکیل پر اعتراض اٹھانے پر عدالت برہم ہوگئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بہت ہوگیا ،معاملہ پاکستان بار کونسل کو بھیجیں گے، پہلے روز اعتراض اٹھانے والے کو فریق بنتے وقت کسی پر اعتراض نہیں تھا، بہت عدالتی اسیکنڈالائزیشن ہوگئی، ہم ایسے رویے پر کارروائی کا کہیں گے، پہلے روز 2 رکنی بینچ میں میں شامل تھا، تب اعتراض نہیں کیا گیا، اعتراض تھا تو پہلے ہی دن اٹھانا چاہیے تھا، آج اکر زبانی بینچ پر اعتراض کردیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بینچ پر اعتراض اٹھاکر ہیڈ لائنز بنوانا چاہتے ہیں، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل نیاز اللہ نیازی سے دریافت کیا کہ آپ بتائیں کیا اعتراض ہے؟ وجہ بتائیں کہ آپ کو کیوں اعتراض ہے، پہلے دن آپ کو اعتراض نہیں تھا؟
بعد ازاں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ جب دو ممبر بینچ تھا تب کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدلیہ کی تذلیل کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، ہم دیکھیں گے کہ ان کے خلاف ایکشن لینا ہے کہ نہیں، یہ بس کیس خراب کرنا چاہتے ہیں۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل کا آغاز کر دیا۔
یاد رہے کہ 14 جون کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل تشکیل کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی تھی۔
واضح رہے کہ 13 جون کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے اور اپیل کو کل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔12 جون کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر چیف جسٹس شہزاد ملک نے 8 ٹربیونلز کی تشکیل کے احکامات جاری کیے تھے۔6 نئے ٹربیونلز کے علاوہ لاہور اور ملتان میں موجودہ ٹربیونل میں کام کرنے والے دو ججوں کو پڑوسی اضلاع اور تحصیلوں کے حلقے دوبارہ تفویض کیے گئے ہیں۔