بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہتک عزت قانون پر تنقید کی پروا نہیں، غلط الزام لگانے پر سزا ملے گی، وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہتک عزت قانون پر تنقید کی پروا نہیں ہے لیکن بغیر ثبوت کسی کو بھی تہمت، عزت اچھالنے کی اجازت نہیں ہے، غلط الزام لگانے پر سزا ملے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت قانون کی جتنی ضرورت پاکستان میں آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی، کیوں کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا غلط استعمال جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس کے پاس مائیک ہے وہ سمجھتا ہے کہ مجھے پوری آزادی ہے کہ میں کسی کی عزت اچھال دوں، کسی کی پکڑی اچھال دوں، کسی پر تحمت لگادوں لیکن مجھ سے کوئی سوال نہیں کرے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہتک عزت قانون پر جب لوگ اعتراض کرتے ہیں تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں، یعنی ہم ہتک کریں گے لیکن ہمیں سزا نہ دی جائے، ہمیں پوچھا نہ جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب میڈیا یہ بات کرتا ہے تو مجھے بہت تکلیف اور حیرانگی ہوتی ہے ، وہ کہنا چاہ رہے ہیں ’یعنی ہم ہتک کرنا نہیں چھوڑیں گے اور ہم پر کوئی قانون لاگو نہیں ہونا چاہیے‘، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ خود بولیں،’ آپ بالکل ایسا قانون لائیں جس میں جو جھوٹ بولے یا ثبوت اور تصدیق کے بغیر کسی پر الزام لگاتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے’۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس سے پھر کوئی بھی محفوظ نہیں ہوگا، میری جگہ جو آئے گا وہ بھی اس سے متاثر ہوگا، میڈیا اگر کسی پر غلط الزام لگائے اور پکڑا نہ جائےتو یہ نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے میڈیا کا بہت احترام ہے کیوں کہ میڈیا کا بہت مثبت کردار بھی ہے لیکن کسی کو بھی بغیر ثبوت کے عزت اچھالنے اور الزام تراشی کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس پر میری ذات پر جتنی بھی تنقید کریں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ اس قانون کو پڑھے بغیر اس پر تنقید کررہے ہیں، مثال کے طور پر کسی نے مجھ پر الزام لگایا ہے، میں عدالت جاتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ مجھے پر جو الزام لگایا گیا، اس کا ثبوت فراہم کردیں، اگر اس الزام میں کوئی حقیقت ہوگی اور ثبوت دینے کے بعد مجھے سزا ملے گی، لیکن کسی نے بدنیتی سے جھوٹ بول کر الزام لگایا، اور مقصد صرف عزت اچھالنا تھا تو اس کی سزا ملے گی۔
واضح رہے کہ 8 جون کو قائم مقام گورنر پنجاب ملک احمد خان نے ہتک عزت کا بل منظور کرلیا تھا۔20 مئی کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اور صحافتی تنظیموں کے تحفظات اور احتجاج کے باوجود صوبائی حکومت کا پیش کردہ ہتک عزت بل 2024 منظور ہوگیا تھا۔
بل کے اہم نکات
صوبائی اسمبلی میں منظور ہونے والے ہتک عزت بل 2024 کے تحت ٹی وی چینل اور اخبارات کے علاوہ فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام پر بھی غلط خبر یا کردار کشی پر 30 لاکھ روپے ہرجانہ ہوگا۔
کیس سننے کے لیے ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے جو 180 دنوں میں فیصلے کے پابند ہوں گے،آئینی عہدوں پر تعینات شخصیات کے کیسز ہائی کورٹ کے بینچ سنیں گے۔