بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حزب اللہ کا اسرائیل پر بڑا حملہ، 200 میزائل اور دو درجن سے زائد ڈرونز فائر

لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے جمعرات کو اپنے اعلیٰ کمانڈر کی ہلاکت کے بدلے میں اسرائیل پر ایک بڑا حملہ کیا ہے، جس میں اس نے 200 میزائل اور دو درجن سے زائد ڈرونز اسرائیل کی جانب فائر کئے۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی جیٹ طیاروں نے ملک کے کئی علاقوں میں ساؤنڈ بیریئر بریک کئے۔
حزب اللہ نے کہا کہ اس نے بدھ کو جنوب میں اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ کے کمانڈر محمد ناصر کی ہلاکت کے بدلے میں اسرائیل کے 10 فوجی ٹھکانوں پر 200 سے زیادہ راکٹ اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
محمد ناصر حزب اللہ کے سینئر ترین کمانڈروں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیل نے تنازعے کے دوران مارا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ’لبنان سے اسرائیلی سرزمین میں داخل ہونے والے تقریباً 200 میزائلوں اور 20 سے زیادہ مشکوک فضائی اہداف کی نشاندہی کی گئی‘، جن میں سے کئی کو اسرائیلی فضائی دفاع اور لڑاکا طیاروں نے روک لیا۔
اسرائیل کی ایمبولینس سروس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم، اسرائیلی فوج نے بتایا کہ کچھ ڈرونز اور انٹرسیپٹر شارپنل کی وجہ سے آگ لگی ہے۔
صہیونی فوج نے جنوبی لبنان کے دو دیہاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فضائیہ نے رامیہ اور حولہ کے علاقوں میں ’حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا‘۔
غزہ جنگ کی وجہ سے ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ بتدریج شدت اختیار کر رہا ہے، جس سے ایک مکمل جنگ کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے، دونوں فریقوں نے اشارہ کیا ہے کہ وہ اس آنے والی بچنا چاہتے ہیں اور سفارت کار اس کو روکنے کے لیے کام بھی کر رہے ہیں۔
حزب اللہ کی جانب سے تازہ ترین حملہ لبنان اسرائیل سرحد سے منسلک علاقوں میں کیا گیا ہے، جس کے بعد بیروت اور لبنان کے دوسرے حصوں میں مسلسل دوسرے دن جہازوں کی ”سونک بومز“ لوگوں کے نے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا۔
حزب اللہ کے سینئر عہدیدار ہاشم صفی الدین نے بیروت میں ناصر کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ ان کا گروپ اپنے ہدف کو وسیع کرے گا۔
ہاشم صفی الدین نے کہا، ’جوابات کا سلسلہ یکے بعد دیگرے جاری ہے، اور ان نئی جگہوں کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا جن کے بارے میں دشمن نے سوچا بھی نہیں تھا۔‘