بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مہنگی بجلی ،چیئرمین سینیٹ ،حکومتی ارکان بھی بول پڑے

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)بجلی کے بلوں میں ایک بارپھربھاری اضافہ کردیاگیاہے، اپوزیشن ، عوام کے علاوہ اب تو حکمران جماعت کے اندر سے بھی بجلی کے بلوں کے معاملے پر آوازبلندہوناشروع ہوگئی ہے چیئرمین سینیٹ سیدیوسف رضاگیلانی اور ارکان نے وزیرتوانائی اویس لغاری کے بیان کو غیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے سینیٹ کیکل ایوان کااجلاس بلاکربجلی بلوں کے معاملے پرتفصیلی بریفنگ دینے کا حکم جاری کردیاہے،اگر ماضی کے چند سال کا جائزہ لیاجائے تو 2013 میں بجلی کی قیمت دس سے بارہ روپے فی یونٹ تھی 2017 میں جب نوازشریف کو نااہل کیاگیاتوبجلی کی قیمت 17 روپے فی یونٹ 2022 میں عمران خان حکومت کے خاتمے پر بجلی کی قیمت بیس سے چوبیس روپے فی یونٹ کے درمیان رہی ،پی ڈی ایم دورحکومت میں گردشی قرضے میں خطرناک حدتک اضافے اور آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیاگیا اور اب جو اضافہ کیاگیاہے اس کے مطابق بجلی کی زیادہ سے زیادہ فی یونٹ قیمت 49 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے،بجلی کی قیمتوں میں سب سے بڑا فراڈ فیول ایڈجسٹمنٹ اور سلیب کے طریقہ کار کو بنیادبناکرکیاجارہاہے،آئی پی پیز کے ساتھ ماضی میں ہونے والے غلط معاہدوں کی سزامعاہدے کرنے والوں کے بجائے عوام کو مل رہی ہے،لوگ اب اس حد تک تنگ آچکیہیں کہ بجلی کے بل دینے کیلئے خواتین زیورفروخت کرنے ،متوسط طبقے کے لوگ موٹرسائیکل اور چھوٹی گاڑیاں فروخت کرنے پر مجبورہوچکے ہیں ،وفاقی وزیردعوی کرتے رہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں کیاجانے والااضافہ سات سے نوفیصد ہے عوام حکومتی موقف کو تسلیم کرنے کے لئے تیارنہیں ہے،شہرشہراور قصبے قصبے میں احتجاج ہورہاہے ،وزیراعظم شہبازشریف کو اس معاملے میں خود فیصلے کرناہوں گے اگرانہوں نے یہ معاملہ وزارت توانائی ،نیپرااور بابوؤں پر چھوڑا تو پھر پہلے ریاست بچانے کے باعث ان کے ووٹ بینک پر جو اثر پڑا بجلی کے بلوں کے بعد ن لیگ کو عوامی مقبولیت میں مزیدکمی کاسامناکرناپڑسکتا ہے جس کی تلافی نوازشریف کے لئے مشکل ہوگی،سینیٹ میں وزیرموصوف کو سخت سوالات کا سامناکرناپڑا جس پر چیئرمین سینیٹ ،جوحکمران اتحاد کا حصہ ہیں وہ بھی عوام کے حق میں بولنے پر مجبورہوگئے،دوسری جانب فوادچوہدری اور تحریک انصاف کے رہنماشیرافضل مروت کے درمیان بیان بازی میں اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیاگیاہے دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں سیاسی روایتی الزامات کے علاوہ جو زبان استعمال کی ہے وہ قابل مذمت ہے، شیرافضل نے فواد چوہدری پریہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے ہوئے تھے اور پی ٹی آئی حکومت کا تختہ الٹنے کے معاملے میں بھی ان کا کردار تھا، انہوں  نے دعویٰ کیا کہ انہیں عمران خان نے بتایا تھا کہ رجیم چینج آپریشن میں فواد چوہدری کا کردار مشکوک تھا اور وہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے ہوئے تھے فواد چوہدری پر مقدمات ان کی ہی فرمائش پر بنے تھے اور جیل میں بھی ان کی مکمل سیٹنگ تھی جہاں وہ وی آئی پی انداز میں رہے۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری بن بلائے مہمان اور پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے کی طرح ہمارے خلاف بول پڑے اور لگتا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا ٹاسک بیرون ملک کچھ صحافیوں کو بھی ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کے پاس ہم پر تنقید کرنے کی کوئی اخلاقی وجہ نہیں ہے کیوں کہ جب پارٹی کو حوصلے کی ضرورت تھی تو وہ خود اور ان جیسے دوسرے لوگ بھاگ گئے تھے۔شیرافضل مروت کی اس بات میں کافی صداقت ہے کیونکہ فوادچوہدری سابق آرمی چیف جنرل ر قمرجاویدباجوہ کے بہت قریب تھے اور جب عمران خان نے پہلے مرحلے میں انہیں وزارت اطلاعات سے ہٹایاتھاتو دوسری مرتبہ جنرل ر باجوہ کی سفارش پر ہی انہیں وزارت اطلاعات دی گئی ،عمران خان کو پارٹی کے بعض سینئررہنماوں نے یہ مشورہ دیاتھاکہ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل عاصم منیرکی بطورآرمی چیف تعیناتی کی مخالفت نہ کی جائے اور راولپنڈی میں 26 مئی 2022 کو دیاجانے والادھرنامنسوخ کردیاجائیلیکن پارٹی کے سینئر رہنماوں جن میں شبلی فرازکی بھی یہ رائے ہے کہ فوادچوہدری نے عمران خان کو مشورہ دیاکہ وہ ہرصورت راولپنڈی میں دھرنادیں اور لانگ مارچ اسلام آبادلے کرآئیںاس سارے معاملے میں فواد چوہدری کا کردار خاصامشکوک رہاجب چوہدری پرویز الٰہی عمران خان کو یہ مشورہ دے رہے تھے کہ پنجاب اسمبلی نہ توڑی جائے تو فوادچوہدری عمران خان پر زوردیتے رہے کہ پرویزالٰہی سے اسمبلی تڑوائی جائے اور پھرایساہی ہوااور اس کے بعد پنجا ب حکومت کھو کر تحریک انصاف اور عمران خان کو جو نقصان ہوا اس کا ازالہ نہیں ہوسکالہذا فوادچوہدی کی تحریک انصاف میں واپسی کا امکان نہیں،عمران خان سے اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماوں عمرایوب ،شبلی فراز،شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزارسمیت دیگرکی ملاقات نہیں ہوسکی،جیل حکام کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی ،عمرایوب کا یہ فقرہ بہت اہم ہے کہ چھوٹے گریڈ کے پولیس اہلکاروں نے اچھاسلوک نہیں کیاوہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور ان کا گریڈ 23 ہے۔انٹیلی جنس ایجنسی کے افسران جیل کو کنٹرول کررہے ہیں اور ہمیں ملنے نہیں دیاجارہاہے۔