بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آڈیو لیک کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج

وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا 25 جون کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور پی ٹی اے سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ اداروں کے سربراہان کی طلبی اور ان سے رپورٹس منگوانا فیکٹ فائنڈنگ کے مترادف ہے، نجم ثاقب کی درخواست پارلیمانی کمیٹی کی طلبی کے خلاف تھی جو معاملہ ختم ہوچکا، اسلام آباد ہائی کورٹ غیر مؤثر درخواست کے نکات سے ہٹ کر کارروائی کر رہی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے حقائق کے منافی فیصلہ دیا ہے، ہائی کورٹ نے وہ ریلیف دیا جو مانگا ہی نہیں گیا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

حکومت نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کا 25 جون کا آرڈر کالعدم قرار دے۔

یاد رہے کہ جسٹس بابر ستار نے 25 جون کے حکمنامے میں کہا تھا کہ قانون کے مطابق شہریوں کی کسی قسم کی بھی سرویلنس غیر قانونی عمل ہے، ریاست کی زیر سرپرستی قانونی انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم کے ذریعے 40 لاکھ شہریوں کی سرویلنس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے، وزیر اعظم اور کابینہ ممبران اس ماس سرویلنس کے اجتماعی اور انفرادی طور پر ذمہ دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت امید کرتی ہے کہ وزیر اعظم تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں سے رپورٹس طلب کرکے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے، وزیر اعظم لا فل منیجمنٹ سسٹم سے متعلق 6 ہفتوں میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کے پابند ہوں گے، وزیر اعظم بتائیں کہ کس قانون و آئین کے برخلاف شہریوں کی سرویلنس جاری ہے؟ وزیر اعظم بتائیں کہ لا فل انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم کی تنصیب اور ماس سرویلنس کا ذمہ دار کون ہے؟

حکم نامے کے مطابق وزیر اعظم بتائیں کہ سرویلنس سسٹم کا انچارج کون ہے جو شہریوں کی پرائویسی کو متاثر کر رہا ہے؟ اس کے علاوہ تمام ٹیلی کام کمپنیاں لا فل انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم سے متعلق اپنی اپنی رپورٹس 5 جولائی تک جمع کرائیں، تمام ٹیلی کام کمپنیاں یقینی بنائیں کہ لا انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم کی ان کے سسٹمز تک رسائی نہ ہو، ٹیلی کام کمپنیاں اپنا ڈیٹا صرف مقدمات کی تفتیش کے لیے تحقیقاتی اداروں سے شیئر کرنا جاری رکھ سکتی ہیں۔

مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی اے کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے، پی ٹی اے کے ممبران کو بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے جاتے ہیں، چیئرمین پی ٹی اے اور پی ٹی اے ممبران 6 ہفتوں میں توہین عدالت نوٹسز کا جواب جمع کرائیں، چیئرمین پی ٹی اے اور ممبران بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے؟عدالت سمجھتی ہے کہ پی ٹی اے نے بظاہر اپنی رپورٹ میں سرویلنس سسٹم سے متعلق غلط بیانی کی ہے، پی ٹی اے لا فُل انٹرسیپشن منیجمنٹ سسٹم نامی سرویلنس سسٹم سے متعلق سربمہر لفافے میں رپورٹ جمع کرائے،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق پی ٹی اے بتائے کہ یہ سرویلنس سسٹم کہا تنصیب کیا گیا ہے؟ کس کس کو اس سسٹم تک رسائی حاصل ہے، وفاقی حکومت کی ان چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، تاہم وفاقی حکومت بھی اضافی دستاویزات سربمہر لفافے میں جمع کروا سکتی ہے، فیصلے کی کاپی وزیر اعظم، سیکرiٹری کابینہ ڈویژن اور چیئرمین پی ٹی اے کو عملدرآمد کے لیے بھجوائی جائے اور کیس کو 4 ستمبر 2024 کو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔

آڈیو لیک کیس کا پس منظر:
واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔

اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوذر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

اس حوالے سے تحقیقات کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی، تحریک کے متن کے مطابق سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو سامنے آئی ہے، مبینہ آڈیو کے معاملے کی فرانزک تحقیقات کرائی جائیں، نجم ثاقب کی آڈیو لیک کی تحقیقات کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

اس تحریک کی منظوری کے اگلے روز ہی اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے تحقیقات کے لیے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی تھی، کمیٹی میں شامل دیگر ارکان میں شاہدہ اختر علی، محمد ابوبکر، چوہدری محمد برجیس طاہر، شیخ روحیل اصغر، سید حسین طارق، ناز بلوچ، خالد حسین مگسی، وجیہہ قمر اور ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی تحقیقات اور انکوائری کے سلسلے میں کسی بھی تحقیقاتی ادارے کی مدد لے سکے گی اور اپنی جامع تحقیقات کرکے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔

30 مئی کو نجم ثاقب نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی اسپیشل کمیٹی کی تشکیل چیلنج کردی تھی, درخواست میں نجم ثاقب نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلم بھوتانی کی سربراہی میں پارلیمانی پینل کی کارروائی روک دی جائے کیونکہ یہ باڈی قومی اسمبلی کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن کمیٹی کے سیکریٹری نے اس کے باوجود انہیں پینل کے سامنے پیش ہونے کو کہا۔

دوسری جانب 8 دسمبر 2022 کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک ہوئی جس میں دونوں کو سابق وزیر اعظم کے پاس موجود گھڑیوں کی فروخت کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔

21 سیکنڈ پر مشتمل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کو گھڑیوں کے بارے میں بات چیت کرتے سنا جاسکتا ہے۔