بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اپوزیشن کی اہم بیٹھک،تحریک عدم اعتماد کیلئے آئینی و قانونی مشاورت

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )اپوزیشن رہنماوں کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلد بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی جائے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس ضمن میں تجویز اپوزیشن کے بعض رہنماوں کی جانب سے زرداری ہاوس اسلام آباد میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں دی گئی ۔اجلاس میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر غورو خوص کیا گیا۔
زرداری ہاوس اسلام آباد میں منعقدہ اپوزیشن کی بڑی بیٹھک میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اپوزیشن رہنماوںنے شرکت کی۔منعقدہ اجلاس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، سردار ایاز صادق، سید خورشید شاہ، خواجہ سعد رفیق، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب نے بھی شرکت کی۔سید خورشید شاہ، سید نوید قمر، احسن اقبال، رانا ثنااللہ خاں، پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، مرتضی وہاب اور مریم اورنگزیب نے بھی شرکت۔ کی۔نجی ٹی وی کے مطابق کے مطابق اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قانونی ماہرین نے بطور خاص شرکت کی۔اپوزیشن قائدین کو ن لیگ کی جانب سے اشتر اوصاف اور زاہد حامد جب کہ پیپلزپاٹی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک اوربیرسٹر مرتضی وہاب نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے بریفنگ دی۔منعقدہ اجلاس میں جے یو آئی (ف)کی جانب سے کامران مرتضی نے بھی قانونی و آئینی مشاورت فراہم کی۔اپوزیشن کے بڑوں کی بیٹھک میں حکومت کے اتحادیوں اور پاکستان تحریک انصاف کے ناراض اراکین سے ہونے والے رابطوں کی تفصیلات پر مبنی بریفنگ بھی دی گئی۔اس موقع پر اپوزیشن کے بعض رہنماں کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جلد بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی جائے۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے امور پر مشاورت کی گئی ۔ملاقات میں یوسف رضا گیلانی ، مراد علی شاہ، نوید قمر، خورشید شاہ ،شاہد خاقان عباسی ، خواجہ سعید رفیق، مریم اورنگزیب ،ایاز صادق، رانا ثناء اللہ اور دیگر بھی موجود تھے۔