بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

روال ڈیم انٹرچینج منصوبہ، ٹھیکدار نے کام روک دیا

اسلام آباد ( ملک نجیب ) وفاقی ترقیاتی ادارہ کے میگا پروجیکٹ راول ڈیم چوک انٹرچینج پر ٹھیکیدار نے عالمی مارکیٹ میں سٹیل اور دیگر تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے باعث 2020 میں جن نرخوں پر ٹھیکہ لیا تھا اس کے مطابق کام کرنے سے انکار کر کے جاری ترقیاتی کام کو روک دیا، مذکورہ تعمیراتی کمپنی کو ن لیگ دور میں پنجاب حکومت نے بے ضابطگیوں پر بلیک لسٹ کر دیا تھا جبکہ وفاقی دارالحکومت میں بھی اس کمپنی کے بنائے گئے کئی بڑے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں ۔

پیر کوسی ڈی اے کے ذمہ دار حکام نے استفسار پر بتایا کہ گزشتہ سال شروع ہونے والے میگا ترقیاتی منصوبوں میں شامل راول ڈیم انٹرچینج کا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی کمپنی نے ستر فیصد کام مکمل ہونے کے بعداب اچانک اس پر کام روک دیا ہے، کمپنی کی جانب سے مہنگائی کی شرح ، روپے کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے سٹیل اور دیگر تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ کا جواز بناکرمہنگائی کے تناسب سے ٹھیکے کو بڑھانے کامطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ منصوبہ سی ڈی اے کی جانب سے ایک ارب دس کروڑ روپے کی لاگت سے جولائی 2020 میں شروع کیا گیا تھا جس کی جون 2022 میں تکمیل ہونا تھی تاہم تکمیل سے تین ماہ قبل منصوبے کے رک جانے سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تکمیل کے آخری مراحل میں سی ڈی اے انتظامیہ کو مبینہ طور پر مذکورہ کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے بلیک میل کر کے مزید رقم حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔

یاد رہے کہ راول ڈیم انٹرچینج منصوبہ کا کنٹریکٹ حاصل کرنے والی کنسٹرکشن کمپنی نے اس سے قبل زیرو پوائنٹ انٹرچینج بھی تعمیر کیا تھا جس میں اس وقت بھی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں تھیں جبکہ اس کمپنی کو موجودہ حکومت کی بعض اعلیٰ شخصیات کا منظور نظر ہونے کی وجہ سے پشاور میں بلیک لسٹ ہونے کے باوجود بی آر ٹی کا ٹھیکہ دیا گیا جس کی لاگت میں کمپنی کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی اس حوالے سے بارہا الزامات عائد کئے گئے کہ بہت سے منصوبوں میں شدید مالی بے ضابطگیوں کے بعد بھی راول ڈیم انٹرچینج منصوبہ اسی کمپنی کے سپرد کیا جانا حیران کن ہے ۔ سی ڈی اے انتظامیہ کا موقف جاننے کے لئے جب سی ڈی اے کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذمہ دار حکام سے بات کرنے کے بعد حقیقت بتا سکیں گے ۔