بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تحریک عدم اعتماد میں 172 سے زیادہ ووٹ لیں گے، اپوزیشن رہنماوں کا دعویٰ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن ، جے یو آئی اور پی پی کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا اعلان کرتے ہوئے اس کی کامیابی کی امید بھی ظاہر کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ 172 سے اراکین ہمارے ساتھ ہیں۔
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ کل ہماری مشاورت ہوئی جس میں متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس سے آج ہر شخص مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے قرضے لے کرہماری نسلوں کوگروی رکھ دیا ہے، خارجی محاذ پربھی موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، پی ٹی آئی حکومت نےسی پیک کوبھی متنازع بنانےکی کوشش کی جبکہ وزیراعظم نے اپنی حالیہ تقریرکےدوران یورپی ممالک کوبھی ناراض کردیا۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے کوئی بھی فیصلہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے حق اور بہترین کے لیے کیا ہے، تحریک عدم اعتماد بھی عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے۔جمعیت علما اسلام کے قائد اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو بڑی باتیں کرنی تھیں کر لیں اب کچھ نہیں ہو سکتا، عمران خان مقبول نعروں کا سہارا مت لیں، عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں، قوم عنقریب نجات کی خوشخبری سنے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی تمام گفتگو ہمیں نمائشی ہی نظر آ رہی تھی، ساڑھے تین سال میں ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا گیا، ہم نے پہلے ہی کہا تھا حکمران بیرونی قوتوں کا ایجنٹ ہے، این جی اوز کے ذریعے مغربی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی قسم کی خوش فہمی نہیں ہے، عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، حکومت کو ہم نے پہلے ہی روز سے تسلیم نہیں کیا، اس لیے اب تینوں نے بیٹھ کر عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی، حکومت کے کے دن اب گنے جا چکے ہیں اور بساط لپٹ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو آپ نے کرنا تھا وہ آپ نے کر لیا، بلند و بانگ دعوے کر کے نئی نسل کو دھوکا دیا، امریکا اور یورپ کی باتیں ہو رہی ہیںم ہم آپ کی اصلیت اور حقیقت کوجانتے ہیں، اب کوئی آئیڈیل باتیں سودمند ثابت نہیں ہوں گی، آپ ہمیں دھمکیاں اور گالیاں دے رہے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد میں 172 سے بھی زیادہ ووٹ لیں گے، ہم آپ کو اور آنے والی نسلوں کو بچائیں گے، اپوزیشن نے سوچا اب نہیں توکبھی نہیں کیونکہ اب صدر مملکت کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بینظیربھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی تو اسحاق خان نے اسمبلی توڑ دی تھی۔ آصف زرداری کا کہنا تھاک ہ ان کےارکان اپنے حلقوں میں جائیں گےتوکیا جواب دیں گے، ان کے اپنے لوگ بھی ان سے بےزار ہیں۔صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے ازراہ تفنن کہا کہ اراکین کے نمبرز اور نام بھی بتادوں کہ کتنے تحریک عدم اعتماد کے حامی ہیں، یہ سب کوئی پلان کے تحت نہیں ہورہا بلکہ قدرت ہمارے اچھے دن لے ا?ئی تو سب مل کر بیٹھ گئے۔