امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان نہیں حکمران ناکام ہو گئے، اوورسیز پاکستانی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اوورسیز ہر سال ملک میں 30ارب ڈالر بھیجتے ہیں، ان کا اعتماد بحال ہو جائے تو ترسیلات زر 50ارب ڈالر تک جا سکتی ہیں، مگر یہاں چند ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے ترلے ہو رہے ہیں،اقتدار میں آ کر ملک کی پہلی جدید اوورسیز یونیورسٹی قائم کریں گے۔
وہ جماعت اسلامی شعبہ امور خارجہ کے زیراہتمام اسلام آباد میں اوورسیز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔
کنونشن میں برطانیہ، فرانس،اٹلی، سعودی عرب،ترکی، ملائشیا، قطر،کویت، نیوزی لینڈ،ہانگ کانگ،بوسنیا، سپین ساوتھ افریقہ سمیت 26 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سراج الحق نے کہا کہ اوورسیز کے ہوتے ہوئے ملک کو کسی آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے قرضے کی ضرورت نہیں، حکمرانوں نے اوورسیز کا اعتماد مجروح کیا، جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرے گی اورقرض فری پاکستان کی بنیاد رکھے گی۔ 90 لاکھ اوورسیز کو محسن پاکستان شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا، ان کی فیملی اور پراپرٹیز کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ اوورسیز کو ووٹ کا حق دیا جائے، ان کے لیے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں رکھی جائیں۔ اوورسیز کی زمینوں اور جائدادوں پر قبضہ اور دیگرمسائل کے حل کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں، ان کے مسائل حل نہ ہوئے تو حکمرانوں کو گریبانوں سے پکڑا جائے گا۔
امیر جماعت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے ملک کو ہر لحاظ سے تباہ کیا۔ حکمرانوں کی وجہ سے اوورسیز کو بیرون ملک شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ حکمران ٹرائیکا نے عالمی سطح پر پاکستان کو بھکاری بنا کر پیش کیا اور 22کروڑ عوام کی توہین کی۔ حکمرانوں نے بیرونی قرضے عوام کی بہتری پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی جیبوں میں ڈالے۔ ہونا یہ چاہیے کہ جس حکمران جماعت نے اپنے دور میں جتنے قرضے لیے وہی انھیں واپس کرے۔
انہوں نے کہا کہ کرپٹ ٹرائیکا بری طرح ایکسپوز ہو گیا، انھوں نے مل کر غریب عوام کو بحرانوں کے ہمالیہ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ ملک دوراہے پر کھڑا ہے، عدالتیں اور احتساب کے ادارے لٹیروں کا احتساب کرنے میں ناکام، اب عوام ووٹ کی طاقت سے حکمرانوں کا احتساب کرے گی۔
سراج الحق نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اوورسیز پاکستانیز کا استحصال کیا ہے، بیشتر کے پاس این او سیز نہیں ہیں۔ بیرون ملک کوئی پاکستانی فوت ہو جائے تو اس کی میت لانے کے لئے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرض اتارو ملک سنوارو سکیم ہو، زلزلہ، کورونا وباء یا سیلاب آئے اوورسیز نے ہر موقع پر پاکستان سے بھرپور وابستگی کا ثبوت دیا، مگر نئے پاکستان کے دعویدار ہوں یا دیگر حکمران جماعتیں کسی نے اوورسیز کے مسائل پر کبھی توجہ نہیں دی۔
کنونشن میں نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود و دیگر بھی شریک تھے۔ ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ جماعت اسلامی آصف لقمان قاضی نے کنونشن میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے 19 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ جن میں اوورسیز کے لیے ووٹنگ کا حق،پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں، ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات، اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے تعلیمی اداروں میں نشستیں، جامع انشورنس سکیم کے قیام کے مطالبات کیے گئے۔ چارٹر آف ڈیمانڈمیں اوورسیز کو زرمبادلہ بھیجنے پر قومی اعزازات اور انعامات دینے، پراعتماد سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کے نقات بھی شامل ہیں۔ مطالبہ کیا گیا کہ اوورسیز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وزارت خارجہ میں خصوصی ڈیسک، ون ونڈو خصوصی ویب پورٹل بھی قائم کیا جائے۔ اوورسیز کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کے خاتمے اور انھیں بیرون ملک ملازمت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مفت قانونی مشاورت فراہم کی جائے۔ اوورسیز کا ائیرپورٹس پر احترام، ان کے لیے نائکوپ فیس کی معافی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
کرپٹ ٹرائیکا بری طرح ایکسپوز ہوچکا، اوورسیز پاکستانی ملک کو دیوالیہ سے بچا سکتے ہیں،سراج الحق








