اسلام آباد(ممتازنیوز) مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاہے کہ ملک کو موجودہ حالت میں چھوڑ کر الیکشن میں جانادانشمندی نہیں ہوگی،شیخ رشیدکا آصف زرداری سے متعلق جھوٹ پر مبنی ہے، ان جیسے لوگوں کا ایشویہ ہے کہ ان سیاست کا چراغ کسی جلتا رہے ،فوادچودھری کے ساتھ جو کچھ ہواسینیٹ میں اس پر اظہارافسوس کیا،مگر یہ لوگ بھی کچھ نقش قدم چھور کر آئے ہیں، وہ نقش قدم اچھے نہیں تھے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاکہ شیخ رشید کا یہ بیان کہ زرداری غیرملکی دہشت گردایجنٹ کو عمران خان پر حملے کے لئے ہائیرکررہے ہیں قابل مذمت ہے، ملک میں اس وقت کیا ماحول ہے ،حالات کدھر جارہے؟ لیکن ان کا ایشوصرف یہ ہے کہ سیاست کا چراغ کسی جلتا رہے ،اس سے پہلے شیخ رشید یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ عمران خان کو زہردیاجائے گا یہ وہ لوگ ہیں جن کا لینادینا کچھ نہیں، ون مین پارٹی ہے اور یہ پی ٹی آئی کو جو ایک مقبول جماعت ،آج اس دہانے پر لے آئے ہیں،ان کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اس طرح کی بیان بازی، جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ یہ طرزعمل کہ الیکشن ایک سیاسی سلوگن ہونے چاہئیں کیوں کہ میں نکل آیاہوں اگر کل مولانا یا میری جماعت بھی نکل آئے اور کہے کہ الیکشن کرائیں تو کیا ہماری خواہش پر الیکشن ہوں ۔عام انتخابات سے قبل پنجاب اور خیبر پختونخوامیں الیکشن سے متعلق سوال پرانہوںنے کہاکہ بھارت میں ہر وقت کئی نہ کئی الیکشن ہور ہا ہوتا ہے ، یہ جمہوری عمل ہے چنانچہ ہم بھی دو صوبوں میں الیکشن کرارہے ہیں آئین کا تقاضا ہے کہ نوے دن میں الیکشن کرائے جائیں۔عرفان صدیقی نے کہاکہ فواد چودھری کے ساتھ جو کچھ ہوا سینیٹ میں اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن یہ لوگ بھی کچھ نقش قدم چھور کر آئے ہیں، وہ نقش قدم اچھے نہیں تھے، مجھے تو آدھی رات کو گھر سے اٹھا کر حوالات میں بند کردیاگیا تھا،عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی نے رکن نے مجھ سے اظہار افسوس نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ صبح شام ہر ادارے کو بربھلا کہیں ، گزشتہ حکومت میں بھی سیاسی انتقام چل رہا تھا ۔انہوں نے کہاکہ اسحاق ڈار غلط ہیں یا مفتاح میں اس مسئلے میں نہیں آنا چاہتا،ڈار بھی اپنا کام کررہے ہیںا ور مفتاح نے بھی اپنا کام کیا، اہم بات یہ ہے کہ الیکشن میں جانے سے پہلے ملک کا لاحق ان بیماریوں کا مداواکرنا ہوگا ،اگر ملک کو اسی حالت میں چھوڑ کر اس وقت الیکشن میں جاتے ہیں تو تین ماہ کی عبوری حکومت ملک کو کیسے چلائے گی۔









