ڈی جی خان (ممتازنیوز) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں، احتساب کے ادارے کرپٹ اشرافیہ کا احتساب کرنے میں ناکام، اب عوام ہی ووٹ کی طاقت سے ظالموں، لٹیروں کا احتساب کریں گے،حکمران خود کو برہمن عوام کو شودر سمجھتے ہیں، طاقتور کی پشت پناہی اور کمزور کی گردن دبوچنے والا کھیل مزید نہیں چلے گا، سیلاب متاثرین کو تاحال کوئی سرکاری امدادی ملی نہ ان کے گھر تعمیر ہوئے، حکمران بتائیں اربوں روپے کی ملکی و غیر ملکی امداد کہاں گئی؟ سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں سیلاب زدگان کے فنڈز سے متعلق سوموٹو ایکشن لے۔
وہ چوٹی زیریں ڈی جی خان میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ جلسہ میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
سراج الحق نے خطاب کے آغاز میں سویڈن اور نیدرلینڈز میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلا کر یورپ اور امریکا کو واضح پیغام دیا جائے کہ حضور پاکؐ کی ذات اقدس، قرآن کریم اور اسلام کی دیگر مقدس ہستیاں ہمارے لیے ریڈ لائن ہیں جو اس ریڈ لائن کو کراس کرے گا ہمارا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ انھوں نے عوام سے بھی عہد لیا کہ قرآن کریم کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کرنے کے لیے اگرانھیں اسلام آباد بلایا جائے تو ضرور پہنچیں۔ ان کی اپیل پر نماز جمعہ کے بعد قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعات کے خلاف ملک گیر مظاہرے بھی ہوئے۔
امیر جماعت نے کہا کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی فرسودہ نظام اور سٹیٹس کو کی محافظ ہیں، تینوں ایک دوسرے کو تحفظ دیتی ہیں۔ پولیس حکمرانوں کے محلات کی پہرے داری کرتی ہے اور تنخواہ عوام کے ٹیکسوں سے لیتی ہے، جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر پولیس اور پٹوار کو عوام کی خدمت پر معمور کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ حکمران جماعتوں نے غریب عوام میں محرومیاں بانٹیں، ٹرائیکا مہنگائی اور بے روزگاری کا دوسرا نام ہے، ان کی وجہ سے ملک 62ہزار ارب کا مقروض ہو گیا اور عوام کے ہاتھوں میں آئی ایم ایف کی غلامی کی ہتھکڑیاں ہیں، یہ ہر روز نیا جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حکمرانوں نے اب تک جو قرض لیا خود کھایا، عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، یہ خود عیاشیوں میں مصروف ہیں اور عوام کو کہتے ہیں ایک وقت کی روٹی کھاؤ، چائے میں چینی نہ ڈالو، یہ ظالم حکمران غریبوں کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کی وجہ سے آج غریب پیاز، چینی اور گھی نہیں خرید سکتا، لوگوں کی قوت خرید جواب دے گئی، آج لکڑی 1100روپے من اور گنا صرف 300روپے من، گنا سرمایہ دار خریدتا ہے تو سستا ہے اور لکڑی کی غریب کو چولہا جلانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے تو مہنگی ہے۔ عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملک میں جس جگہ سب سے سستا کھانا ملتا ہے وہ قومی اسمبلی کی کینٹین ہے کیوں کہ وہاں سے حکمران کھاتے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر ایک وزیر کو اتنی تنخواہ دے گی جتنی ایک پرائمری سکول کا ٹیچر لیتا ہے۔ عوام کو ایک ایک پیسے کا حساب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ احتساب کے ادارے اور عدالتیں کرپٹ حکمرانوں کا احتساب نہیں کر سکیں، اب عوام ووٹ کی طاقت سے ہی ظالموں کا احتساب کرے۔ انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ امریکی صدر کے گھر کی پولیس نے 13گھنٹے تلاشی لی، کیا تصور کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے کسی ایم این اے، ایم پی اے کے محل میں پولیس داخل ہو سکے۔ یہ فرسودہ نظام طاقتور کو تحفظ دیتا ہے، قوم کو آئندہ نسلوں کی بقا کے لیے سٹیٹس کو کو بدلنا ہو گا۔امیر جماعت نے کہا کہ زلزلہ ہو یا سیلاب یا کوئی اور قدرتی آفت جماعت اسلامی نے عوام کا ہر مشکل میں ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ ملک کے تمام بچوں کے ہاتھوں میں قلم دوات ہو، تھانہ پٹوار عوام کی خدمت پر معمور ہو۔ ہم اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں اور اسلامی نظام کے علاوہ کوئی اور نظام عوام کو ان کے حقوق نہیں دے سکتا۔ امریکا کے غلاموں کو شکست دینے اور ملک میں عدل و انصاف کی حکمرانی کے لیے لوگ جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، تمام پارٹیاں آزمائی جا چکیں، اب جماعت اسلامی کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں۔ ٹرائیکا آئندہ سو برس بھی اقتدار میں رہا تو بہتری نہیں آئے گی۔
طاقتور کی پشت پناہی اور کمزور کی گردن دبوچنے والا کھیل مزید نہیں چلے گا،سراج الحق








