اسلام آباد: نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے۔ الیکٹرک کی جانب سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی دائر درخواست کی سماعت 31 جنوری کو کرے گا۔ پاور یوٹیلیٹی نے دسمبر 2022 کے لیے ایف سی اے میں 10.26 روپے فی یونٹ کمی کی درخواست کی ہے۔ درخواست نیپرا کے قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے۔ پورے ملک میں لاگو ٹیرف طریقہ کار کے مطابق ایف سی اے کا ہر ماہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کو صارفین کے بلوں پر صرف ایک ماہ کے لیے لاگو کیا جاتا ہے۔
ایف سی اے کا انحصار ایندھن کی عالمی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر ہوتا ہے اور یہ نیپرا اور حکومت پاکستان کے طے شدہ قواعد و ضوابط کے تحت صارفین کو بلوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ دسمبر 2022 کا فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ ستمبر 2022 کے مقابلے کم ہے، جس کی بنیادی وجہ جنریشن مکس کے بہتر استعمال کے ساتھ آر ایل این جی، فرنس آئل اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے۔ جی) سے خریدی گئی بجلی کی قیمت میں بالترتیب 17، 15 اور 29 فیصد کمی ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے عالمی مارکیٹ میں آر ایل این جی اور فرنس آئل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے، جس کی وجہ سے کے۔ الیکٹرک کو اپنے صارفین کو بجلی کی قیمت میں کمی کا فائدہ پہنچانے میں مدد مل رہی ہے۔ کے الیکٹرک کی درخواست پر عوامی سماعت اور جانچ پڑتا ل کے بعد نیپرا اُس مدت کا تعین کرتا ہے، جس میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کو صارفین تک بلوں کے ذریعے منتقل کیا جانا ہے۔ دسمبر کا ایف سی اے فروری 2023 کے بلوں میں لاگو ہونے کا امکان ہے۔
کے الیکٹرک کا تعارف
کے۔ الیکٹرک ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے، جس کا قیام پاکستان بننے سے قبل 1913 میں کے ای ایس سی کے طور پر عمل میں آیا۔ 2005 میں کمپنی کی نجکاری کی گئی۔ کے۔ الیکٹرک پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط یوٹیلیٹی ہے، جو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں سمیت 6500 مربع کلومیٹر علاقے کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے 66.4 فیصد حصص پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹڈ ہیں اور کے ای ایس پاور کی ملکیت ہیں۔ یہ سرمایہ کاروں کا ایک کنسورشیم ہے، جس میں سعودی عرب کی الجومعہ پاور لمیٹڈ، کویت کا نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ) اور انفرا اسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپٹل فنڈ (آئی جی سی ایف) شامل ہیں۔ کے۔ الیکٹرک میں حکومت پاکستان کے بھی 24.36 فیصد حصص ہیں۔









