اسلام آباد(ممتازنیوز) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی سے کوئی ناراضی یا تحفظات نہی، میرا عہدے پر رہنا مریم نواز کیلئے رکاوٹ ہوتا، انہیں اوپن فیلڈ ملنی چاہئے، اب پارٹی کی جانب سے کوئی عہدہ قبول نہیں کروں گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں شاہدخاقان عباسی نے مریم نواز کے چیف آرگنائزر بننے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد بھی ایم این اے تھے، وراثت اہلیت کی بنیاد نہیں، پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور موقع دیتی ہے، آپ نے خود کو ثابت کرنا ہوتا ہے، مریم نواز کے چیف آرگنائزر بننے پر استعفیٰ پارٹی صدر شہباز شریف کو بھیج دیا تھا، بینظیر بھٹو کے انکلز نے ان کی حکومت کو بھی مفلوج کردیا تھا، مریم نواز لیڈر شپ پوزیشن میں آئی ہیں، ان کو اوپن فیلڈ ملنی چاہئے اور میرا وہاں ہونا نہ ان کے لیے مناسب تھا اور نہ میرے لیے مناسب تھا۔انہوں نےکہاکہ مناسب اس لیے نہیں تھا کیونکہ اختلاف ہوتا ہے، اختلاف رائے ہوتا ہے۔ میری وہ چھوٹی بہن کی جگہ ہیں تو اب وہاں اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی۔ اس میں ایک تلخی پیدا ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف پر کیسز تھے لیکن وہ مجرم نہیں تھے، شہباز شریف بطور اپوزیشن لیڈر 18 ماہ جیل میں رہے، 4 سال عمران خان نے شہباز شریف کیخلاف کارروائیوں کے سوا کوئی کام نہیں کیا، شہباز شریف جو ذمہ داری دیتے ہیں اسے پورا کرتا ہوں،میں نے زندگی میں پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں رکھا ، میری کوئی ناراضگی کوئی تحفظات نہیں ہیں ، نواز شریف سے استعفے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، میرا خیال تھا شہباز شریف ہی استعفے سے متعلق اعلان کریں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کی جانب سے کیا گیا فیصلہ سب قبول کرتے ہیں، مستعفی ہونے کی وجوہات بیان کردی ہیں، آئندہ پارٹی کی جانب سے دیا گیا کوئی عہدہ قبول نہیں کروں گا، الیکشن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ہی لڑوں گا، مریم نواز چھوٹی بہن ہیں، ان کے والد سے 35 سالہ تعلق ہے، مریم نواز کی واپسی کے بعد سے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ بڑی کابینہ ہونے سے متعلق ایک سوال پر شاہدخاقان نے کہاکہ عمران خان کی کابینہ اس سے بھی بڑی تھی اور ان کا کام صرف گالیاں دیناتھا،یہاں پر اتحادی جماعتیں ہیں ،تجربہ کارلوگ ہیں ،جوکام کررہے ہیں،پانچ افرادپرمشتمل ،پی ٹی آئی کا ایک ٹولہ تھا جن کا کام صرف گالیاں دیناتھا۔تاہم انہوں نے کہاکہ فوادچوہدری کے معاملے پرغیر مناسب رویہ اختیارکیاگیا،ایسانہیں ہوناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ میںپکڑدھکڑکے حق میں نہیں ہوںتاہم ایسابھی ہوا کہ راناثنااللہ پر پندرہ کلو ہیروئن کا کیس ڈالاگیا اور اس میں پی ٹی آئی کی پوری حکومت ملوث ہے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گا پھرالیکشن ہوں گے ۔ایک اور سوال پر شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ ہزار فیصد انجینئرڈ تھا، جس طرح نوازشریف کو سزادی گئی اس سے پانچ کے ٹولے کا کردار واضح ہوتا ہے ،ناانصافی کرنے میں انصاف کرنے والے شامل ہیں،جب چیف جسٹس انصافی میں شامل ہوجائے وہاں کیا رہ جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ جنرل راحیل شریف کو توسیع نہ دینے کے معاملے پر نوازشریف سے لڑائی کی بنیاد پڑی تھی ،سینیٹ الیکشن کے بعد انٹیلی جنس والوں نے عمران خان کو نمبرزپورے کرکے دیئے تھے۔ شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ میں جنرل ر باجوہ کے پہلی ایکسٹینشن کا مخالف تھا، میری رائے تھی کہ اگر ایکسٹینشن کا دباو ہے تو حکومت چھوڑ دیں ایکسٹینشن نہ دیں یہ تباہی کا باعث ہو گا ۔
میرا عہدہ مریم نواز کے لیے رُکاوٹ بنتا اس لیے استعفیٰ دیا، شاہد خاقان عباسی








