بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اے آئی ٹیکنالوجی کی نظر میں مختلف ممالک کی خواتین کیسی نظر آتی ہیں؟

مصنوعی ذہانت یا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اسے آنے والے دور کی ٹیکنالوجی قرار دیا گیا ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے اے آئی مصنوعات کو استعمال کیا جارہا ہے۔

حال ہی میں ایک 20 سالہ آرٹسٹ ایلکسا نے اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ مصنوعی ذہانت کی نظر میں مختلف ممالک کی خواتین کیسی ہوسکتی ہیں۔

ایلکسا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اے آئی ٹیکنالوجی مختلف ثقافتوں کو کس حد تک اپنا سکتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں ہمیشہ نئی انقلابی ٹیکنالوجیز کو تلاش کرتی ہوں جو ہماری زندگیوں میں تبدیلی لاسکتی ہیں۔ مجھے پہلی بار اے آئی نے اس وقت مسحور کیا جب چیٹ جی پی ٹی کو عوام کے لیے پیش کیا گیا اور میں یہ دریافت کرکے دنگ رہ گئی کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو آرٹ کی تیاری کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں’۔

ایلکسا کی تیار کردہ چند تصاویر آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں جو انہوں نے ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھیں۔

جرمنی اور برطانیہ
اے آئی ٹیکنالوجی نے یہ تصویر تیار کی / ٹوئٹر فوٹو

ایران اور روس
ایک آرٹسٹ ایلکسا نے ان تصاویر کو تیار کیا / ٹوئٹر فوٹو

میکسیکو اور جاپان
البتہ آرٹسٹ نے کس اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا یہ واضح نہیں کیا / ٹوئٹر فوٹو

جمیکا اور یونان
زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے اے آئی مصنوعات کو استعمال کیا جارہا ہے / ٹوئٹر فوٹو

اسپین اور بھارت
یہ تصاویر ایلکسا نے ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھیں / ٹوئٹر فوٹو

ترکی اور اٹلی
آرٹسٹ کی تیار کردہ ایک اور تصویر / ٹوئٹر فوٹو

چین اور یوکرین
اس ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے / ٹوئٹر فوٹو

پرتگال اور کینیڈا
ان میں سے کچھ تصاویر کافی حد تک حقیقی نظر آتی ہیں / ٹوئٹر فوٹو

پاکستان اور سعودی عرب
یہ تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی ہیں / ٹوئٹر فوٹو

نیوزی لینڈ اور ایتھوپیا
مزید تصاویر اس آرٹسٹ کے ٹوئٹر پیج پر دیکھی جاسکتی ہیں / ٹوئٹر فوٹو