پشاور(نیوز ڈیسک) گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے کہا ہے کہگورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور پولیس لائنز دھماکا قومی سانحہ تھا، وزیر اعلی اور گورنر ایک پیج پر ہیں، واقعہ سے پہلے بھی کہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی بیٹھک ہونی چاہے، اب اس واقعہ نے پولیس کو نیا جذبہ بخشا، ان کا مورال مزید بلند ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایپکس کمیٹی اجلاس میں ہر چیز پر بات ہوئی، مگر ایک پارٹی نے شرکت نہیں کی، اب قوم فیصلہ کرے کہ ایسے حالات میں بھی یہ ایک نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں سے مشاورت کرے تاکہ شفاف اور پر امن الیکشن کا انعقاد ممکن ہوا، بینظیر کی شہادت پر بھی الیکشن ملتوی ہوئے تھے وہ ایک سانحہ تھا، آج تو صوبے کے ہر ضلع میں سانحے ہورہے ہیں۔
گورنر کے پی نے کہا کہ حالات کو سنجیدہ سے لینا چاہیے، ضمنی انتخابات تو صوبے کے صرف چند حلقوں پر ہیں، الیکشن ہونے چاہئیں اور سیکیورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومت اور پولیس کا کام ہے، لیکن کیا آپ ملک کو اس نہج پر لے جانا چاہتے ہیں کہ خواتین پولیس اہلکار وانا جانے سے منع کردیں، تو آپ ٹائیگر فورس کو سیکیورٹی کیلئے پولنگ اسٹیشن پر تعینات کردیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ ووٹر آزادانہ طریقے سے گھر سے نکلے اور ووٹ ڈالے، ہم نے لاشیں نہیں اٹھانیں۔









