بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پاکستان سنگل ونڈو کو جلد مکمل کیا جائے، احسن بختاوری کی پائیڈ کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد (ممتازنیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے پرو وائس چانسلر درنایاب اور اپنے محققین کی ٹیم کے ہمراہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور چیمبر کے عہدیداران کے ساتھ باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے شرکاء کو پائیڈ کے تحقیقی کاموں کے بارے میں آگاہ کیا اورچیمبر کے ساتھ تحقیق پر مبنی مختلف رپورٹس شیئر کیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پائیڈ چیمبر کے ساتھ مل کر چارٹر آف اکانومی، بجٹ تجاویز، ٹیکس اصلاحات اور اسٹیٹ آف کامرس رپورٹ کی تیاری سمیت دیگر پالیسی پیپرز تیار کرے گا اور ایسے منصوبوں پرکام کرے گا جس سے تاجر برادری اور معیشت کو فائدہ پہنچے۔۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کی صورت میں ترقی دینے کی کوشش کرے کیونکہ پاکستان کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بڑی کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان معیشت پر کھل کر بات چیت ہونی چاہیے جس سے سازگار کاروباری اور معاشی پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کاروبار شروع کرنے اور اس کو وسعت دینے میں بزنس کمیونٹی کو درپیش رکاوٹوں اور مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو تقریباً 122 ریگولیٹری ایجنسیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے کاروبار کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی ضوابط کی بھرمار کی وجہ سے کاروبار کرنے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ریگولیٹری بوجھ کو کم کرے اور پاکستان سنگل ونڈو منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی کوشش کرے جس سے پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کو بہتر فروغ ملے گا۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پالیسی پیپرز تیار کرنے کیلئے پائیڈ اور چیمبر کا باہمی تعاون کاروبار اور معیشت کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ چیمبر کے نائب صدر انجینئر محمد اظہر الاسلام ظفر نے کہا کہ حکومت تاجر برادری کی عزت و وقار کا خاص خیال رکھے اور نجی شعبے کی مشاورت سے معاشی پالیسیاں تشکیل دے جس سے معیشت کیلئے مفید نتائج برآمد ہوں گے۔پائیڈ کی پرو وائس چانسلر درنایاب، چوہدری محمد علی، رضوان چھینہ، اختر حسین، اشفاق چٹھہ اور دیگر نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان میں نجی شعبے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو آسان و سہل بنانے کے لیے مفید تجاویز دیں۔