اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )شریف فیملی شوگر ملز کی منتقلی کے خلاف دائر درخواستوں کو واپس لینے کی استدعا پر سپریم کورٹ کا شدید برہمی کا اظہار ، جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ کیا عدالتیں پنجاب حکومت چلاتی ہے ؟ زیر التوا مقدمہ پر پنجاب حکومت کیسے خط لکھ کر واپس لے سکتی ہے ؟۔
سپریم کورٹ میں شریف فیملی شوگر ملزکی منتقلی کے خلاف دائر دراخواستوں پر سماعت ہوئی ،پنجاب حکومت کی جانب سے دائر درخواستوں کو واپس لینے کی استدعا کی گئی جس پر سپریم کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا ، جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مطلب ، آپ کیس کیوں واپس لینا چاہتے ہیں؟ نمائندہ پنجاب انڈسٹریز اینڈ کامرس نے جواب دیا کہ شوگر ملز کی منتقلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ، جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیئے کہ کیس عدالت میں ہے تو مسئلہ کیسے حل ہو گیا؟نمائندے نے کہا کہ ملز کو اجازت دی گئی ہے، جسٹس مظاہر نے کہا کہ کیا عدالتیں پنجاب حکومت چلاتی ہے ؟ زیر التوا مقدمہ پر پنجاب حکومت کیسے خط لکھ کر واپس لے سکتی ہے ؟فوری اس خط کو واپس لیں ،پنجاب حکومت استدعا کو طریقہ کار کے مطابق دائر کرے ، جائزہ لیں گے ،عدالت نے کیس کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی ۔









