بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ترک سوشل میڈیا صارفین وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں آگئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک سوشل میڈیا پر بھی عمران خان کا سحر طاری، موجودہ صورتحال پر پاکستانی سیاست ٹاپ ٹرینڈ میں شامل

پاکستانی سیاست پر ترکی کی عوام کی جانب سے کھل کر بات کی گئی ہے۔ عمران خان ترکی کے ٹوئٹر ٹرینڈ پر ٹاپ پر گردش کرتے رہے ہیں۔ ترکوں کی جانب سے اس موقع پر پاکستان اور خصوصاً عمران خان سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

پاکستانی پارلیمںٹ میں تحریک اعتماد کی ووٹنگ سے قبل اور بعد میں ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے تبادلہ خیال کیا۔ عمران خان اور پاکستانی سیاست ترک عوام کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک پالیسی تھنک ٹینک میں یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ترک اپوزیشن کی مدد سے ترک صدر ایردوان کو اقتدار سے الگ کر دیں گے

بائیڈن نے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ایردوان کی پالیسی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ اب چونکہ عمران خان نے بھی امریکا کو ٹکا سا جواب دیا ہے تو ان کی امریکا کے ساتھ ٹھن گئی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ترک عوام پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیتے رہے اور اظہار یکجہتی کرتے پائے گئے۔

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایردوان کے حامی سنئیر صحافی ابراہیم کاراگل نے اس صورتحال پر دو ٹویٹس کیں اور عمران خان سے منسوب بیانات شئیر کئے جس میں کہا گیا پاکستانی وزیراعظم عمران خان؛کہتے ہیں “میں نہ کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ ہی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکاؤں گا”۔ “ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ پاکستان میں امریکی اڈے یا پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف اپنی سرزمین سے کارروائی کی اجازت دی جائے”۔ امریکہ پاکستان میں بھی ختم!”

انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں لکھا “امریکہ پاکستان میں بغاوت پیدا کر رہا ہے! امریکہ نے 2001 میں ایک فون کال کے ذریعے پرویز مشرف سے پاکستان لے لیا تھا۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ “ہم آپ کے ملک کو پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے”۔ آج پھر امریکہ عمران خان کو اسی طرح دھمکیاں دے رہا ہے۔ لیکن یہ دنیا اب 2001 والی دنیا نہیں رہی ہے”۔

ایک ترک شہری امینے میدلیس نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “امریکہ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے نجات کے لیے منصوبہ بندی کی۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ ترکی میں کر رہا ہے۔ اور یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ لیکن عمران خان نے خود پاکستانی پارلیمنٹ تحلیل کر دی اور خان نے 90 دن کے اندر نئے انتخابات کا اعلان کیا۔

ترک حکومتی اتحادی ملیت حرکت پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ “وہ جو 15 جولائی کو ترکی میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، انہوں نے اسی جیسا ایک کھیل پاکستان میں کھیلا۔ امریکہ اور برطانوی اتحاد نے اس بار اعلان کیا کہ ‘عمران خان پاکستان کے وزیراعظم نہیں رہیں گے’۔ پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی ہے۔ ابھی مزید بہت کچھ پاکستان میں ہو سکتا ہے”۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک اور ترک صارف نے عمران خان کا بیان شئیر کرتے ہوئے تعریف کی جس میں لکھا تھا کہ مجھے امریکہ سے دھمکی آمیز خط ملا ہے لیکن میں کھڑا رہوں گا۔

ایک اور صارف نے لکھا ہے کہ ہماری سائیڈ واضع ہے، ہم امریکہ اور اس کے حواریوں کے مقابلے میں پاکستانی عوام اور منتخب وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایک ترک شہری بہادر تیکین نے لکھا ہے کہ ہمارے برادر اسلامی ملک پاکستان کے وزیر اعظم کہتے ہیں امریکہ نے مجھے ایک دھمکی آمیز خط بھیجا ہے۔ وہ میرے خلاف اپوزیشن کو متحد کر رہے ہیں اور مجھے اقتدار سے الگ کر کے رجیم تبدیل کرنا چاہتے ہیں، مگر عمران خان کہتے ہیں وہ ہٹیں گے نہیں بلکہ لڑیں گے۔ اس صارف نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہماری جدوجہد آزادی میں آپ لوگوں نے جو مدد کی تھی وہ ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔

مورات اوزیر نے عمران خان کا بیان ٹویٹ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے بغاوت کی اس کوشش کے مدمقابل وہ حضرت حسین علیہ السلام کی طرح لڑیں گے، باطل کے مقابلے میں حق کی فتح ہو گی۔

ایک ترک خاتون صارف نے لکھا ہے کہ امریکہ عمران خان کے مقابلے کیوں بغاوت تیار کر رہا ہے؟

ان تمام سوالوں کا جواب اس انٹرویو میں ہے۔

https://twitter.com/OkyanusO0_/status/1510672287917391874?s=20&t=KSIprjrhLnpDCU5g_0zr9w

نسلیحان یلدرم نے بھی عمران خان کا بیان شئیر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ “میں نہ کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ ہی اپنی قوم کو کسی کے سامنے جھکاؤں گا”۔