اسلام آباد(ممتازنیوز)ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن نےکہا ہے کہ ڈیجیٹل براڈ کاسٹنگ کے نئے رجحانات کا تقاضا ہے کہ متعلقہ اداروں میں رابطے کوفروغ دیا جائے، انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ہونےوالےاقدامات کواجاگر کیا،چیف ایگزیکٹو آفیسر ذوالفقار علی شاہ نےکہا کہ عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے ہم ریڈیو پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں،سیکرٹری اطلاعات و نشریات شہیرہ شاہد نے کہاہےکہ ریڈیوپاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے پاس اطلاعات و معلومات کا قیمتی اثاثہ موجود ہےاوراس کی دستیابی عام کرنے کیلئے ایک نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل نشریاتی نظام کےبارے میں ایک بڑے مذاکرے میں مقررین نےاس نظام کے اہم اداروں کےدرمیان رابطے کی ضرورت پرزوردیا ہے تاکہ اسے اجتماعی طور پرفروغ ملے اور یہ مثبت اور تعمیری انداز میں قوم کی بہترطور پر خدمت کر سکے۔ ان خیالات کااظہار ایف ایم ایس سٹریم چینل اور اوٹی ٹی پلیٹ فارمز کے نمائندوں نے اس مذاکرے میں کیا جس کا اہتمام پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ریڈیو کے عالمی دن کی تقریبات کے سلسلے میں ریڈیو پاکستان ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں کیا مختلف نجی ایف ایم چینلز، سٹریم چینلز اورٹیکنالوجی کمپنیوں کےسربراہوں، ماہرین تعلیم اور شعبہ صحت کے ماہرین نے مذاکرے میں اپنےگرانقدر خیالات کااظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ ایف ایم چینلز لوگوں کو زیادہ موثر انداز میں معلومات اور تفریح فراہم کرنے میں ریڈیو پاکستان کے پاس موجود پروگراموں اور معلومات کے قیمتی ذخیرے سے استفادہ کرسکتے ہیں،ریڈیو پاکستان ابلاغ عامہ کے شعبے میں معیاری انسانی وسائل کی تخلیق کےلئے تعلیمی اداروں سے تعاون بھی کر سکتاہے۔سیکرٹری اطلاعات ونشریات شہیرہ شاہد نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے پاس اطلاعات و معلومات کا قیمتی اثاثہ موجود ہےاوراس کی دستیابی عام کرنے کیلئے ایک نظام وضع کیا جا رہا ہے، انہوں نے ملک میں ریڈیو پاکستان کی وسیع تر رسائی کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اس قومی نشریاتی ادارے کے نشریاتی آلات کا معیار بلند کیا جارہا ہے تاکہ آواز کا معیار بہتر ہو سکے۔ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن نےاظہارخیال کرتے ہوئےکہا کہ ڈیجیٹل براڈ کاسٹنگ کے نئے رجحانات کا تقاضا ہے کہ متعلقہ اداروں میں رابطے کوفروغ دیا جائے، انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ہونے والے اقدامات کو اجاگر کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف ایم 105 کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ذوالفقار علی شاہ نےکہا کہ عوام کے وسیع تر مفاد کیلئے ہم ریڈیو پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں۔انہوں نےکہا کہ نجی ایف ایم چینلز ریڈیو پاکستان سے نشر ہونیوالے خبروں کے بلیٹن ریلے کر سکتے ہیں۔ایک آئی ٹی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وہاج سراج نے کہا کہ آج نشریاتی میڈیا کو تخلیق اور جدت کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا ہے اور ہمارے خیال میں روایتی طریقوں سے ہٹ کران کاحل تلاش کیاجاناچاہئے۔ریڈیو انجینئرنگ کمپنی کے سی ای او ڈاکٹر جاوید ہارون قریشی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ریڈیو پاکستان موثر مواد کی تخلیق سے مالا مال ہے اور ہمیں اس کی اشاعت کرنا ہے۔ڈپارٹمنٹ آف سوشل سائنسز نسٹ کی ڈین ڈاکٹر سلمیٰ صدیق نےکہاکہ نسٹ نوجوان نسل کو نشریات کی تربیت دینےکیلئے تربیتی اکیڈمی قائم کرنے کی غرض سے ریڈیو پاکستان سے تعاون کرنےکو تیار ہے۔آئی ایم ڈی سی کے سی ای او ڈاکٹر یاسر نیازی نےتقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ان کا ادارہ عوام میں صحت کےحوالے سے آگاہی پیدا کرنے اورتعلیم کے فروغ میں ریڈیو پاکستان سے تعاون کرے گا۔چائنا میڈیا گروپ کے تصور زمان نےکہا کہ ریڈیو پاکستان اورچائنہ ریڈیو انٹرنیشنل میں اشتراک دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے فروغ اور عوام کو قریب لانے میں موثر ثابت ہورہا ہے۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے وکیل خان نےکہا کہ پیمراریڈیو کی صنعت کے فروغ میں کردار اداکرتارہے گا اور عوام کو بہتر انداز میں تعلیم و تفریح فراہم کرتارہے گا۔مرکزی تقریب ریڈیو پاکستان اسلام آباد میں ہوئی جس کی میزبانی ممتاز صحافی، تجزیہ کار اور ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل مرتضیٰ سولنگی نے کی۔اسی طرح کے مذاکرے پی بی سی کے صوبائی ہیڈ کوارٹرز لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفر آباد اورگلگت میں بھی ہوئے۔
ڈیجیٹل براڈ کاسٹنگ کے نئے رجحانات متعلقہ اداروں میں پائیدار رابطے کے متقاضی ہیں،ڈی جی ریڈیو








