اسلام آباد (ممتازنیوز) پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی جنرل کونسل کے گزشتہ روز ہونے اجلاس میں جہاں پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اہم ترین فیصلے کیے گئے،وہیں پارٹی کو ہر سطح پر فعال اور متحرک بنانے کے لیے مرکز اور پنجاب میں نئے عہدے داروں کا انتخاب بھی کیا گیا،تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کی مرکزی و صوبائی جنرل کونسل کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں صوبائی کونسل نے چوہدری سرور کو پنجاب کا صدر اور چوہدری شافع حسین کو جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا۔مرکزی اور صوبائی جنرل کونسل کے اجلاس میں متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔اجلاس میں صوبائی انٙٹرا پارٹی الیکشن کمیشن کے چیئرمین مصطفیٰ ملک نے چوہدری سرور اور چوہدری شافع حسین کے بلامقابلہ منتخب ہونے کا اعلان کیا جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چوہدری سرور پارٹی کے مرکزی چیف آرگنائزر بھی ہوں گے۔
مرکزی جنرل کوننسل نے ڈیڑھ سو ارکین سنٹرل ورکنگ کمیٹی بھی منتخب کیے، چوہدری سالک حسین مرکزی سنئیر نائب صدر، مصطفی ملک مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب ہو گئے۔ضلع اٹک سے رکھنے والے ممتاز اعوان قبیلے کے چشم و چراغ غلام مصطفی ملک 199 سے مسلم لیگ سے وابستہ ہیں،انہوں نے بطور صحافی اپنے کیریئر کا آغاز کیا مختلف اخبارات اور جرائد میں بطور سب ایڈیٹر ،ایڈیٹر اور کالم نگار خدمات انجام دیں جبکہ انہیں کم عمر ترین ایڈیٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے،انہوں نے مجیب الرحمن شامی،ضیاء شاہد،خوشنود علی خان کی زیرادارت کام کیا اور راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کی انتخابی سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا وہ PFUJ کے مرکزی صدر محمد نواز رضا کے گروپ میں شامل رہے،جبکہ انکا شمار افضل بٹ،سی آر شمسی مرحوم،اشفاق ساجد مرحوم کے قریبی ساتھیوں میں بھی رہا،بطور میڈیا کوآرڈینیٙر حکمران جماعت انہوں نے میڈیا ٹاون کے قیام ، صحافیوں کی مالی امداد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،پارٹی قیادت کی خواہش کے باوجود انہوں نے اپنے لیے میڈیا ٹاون میں پلاٹ نہیں لیا،انہیں پارٹی فیصلہ سازی میں یمیشہ اہم حثیت حاصل رہی اور مشاہد حسین سید کی راہنمائی میں انہوں نے پارٹی کو منظم کیا،مصطفی ملک کا شمار سابق وزیراعظم اور پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے وفادار ترین ساتھیوں ہوتا ہے۔پارٹی گروپ بندی میں انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کا کھل کر ساتھ دیا،سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے چوہدری شجاعت حسین کے حق میں فیصلے کے پیچھے بھی مصطفیٰ ملک کے پیپر ورک اور کاوشیں شامل تھیں، مصطفیٰ ملک کو ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی اعلی قیادت کی جانب سے متعدد بار شمولیت کی دعوت دی گئی مگر انہوں نے ہمیشہ چوہدری شجاعت حسین کی ذات کو فوقیت دی، پنجاب میں ق لیگ کی حکومت کے قیام کے وقت بھی انہیں قیادت کی طرف سے براہ راست حکومتی اور پنجاب کا اہم تنظیمی عہدہ دینے کی پیش کش کی گئی مگر انہوں نے اسے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا اور کہا کہ وہ مشکل وقت میں چوہدری شجاعت حسین کو کسی صورت چھوڑ نہیں سکتے، جس پر ملک بھر کے سیاسی حلقوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انکے اس اقدام کو سراہا ، میڈیا اسٹنٹ سے شروع کئے گئے سفر سے پارٹی کے اعلیٰ عہدے تک رسائی تک انکی عاجزانہ شخصیت کا بڑا کردار ہے، ملک بھر سے پارٹی راہنماؤں کی جانب سے انہیں مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ نئی قیادت کے انتخاب سے پارٹی کو ہر سطح پر منظم کرنے میں مدد ملے گی۔
مصطفیٰ ملک پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب








