اسلام آباد(ممتازرپورٹ)سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمرجاوید باجوہ نے کہاہے کہ عمران خان اور شیخ رشید احمدسب سے بڑے جھوٹے ہیں، شیخ رشید کا کوئی انٹلیکٹ لیول نہیں ،بالکل فارغ ہے،ابصارعالم کوکس نے گولی مروائی ؟مجھے علم نہیں،میں نے آ ج تک کسی بے گناہ کو مارنے کا حکم نہیں دیا، مجھ پر اعظم سواتی اور شہباز گل کو ننگا کرنے کا بھی الزام غلط لگایا گیا ؟70 سالہ بزرگ کو ننگا کیسے کرسکتا ہوں ؟میں نے قبر میں بھی جانا ہے۔ سینئرصحافی شاہد میتلاکی جنرل (ر)باجوہ سے ملاقات کے بعد اپنے کالم میں بیان کی گئی تفصیلات کے مطابق جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ میں نے ابصارعالم کو گولی نہیں مروائی ؟ کیا ایک انسان کو قتل کرنا معمولی بات ہے، میں نے قبر میں نہیں جانا ،میں نے آ ج تک کسی بے گناہ کو مارنے کا حکم نہیں دیا، میں نے اس واقعہ کی فوٹیج دیکھی تھی حملہ آور کے ہاتھ میں چھوٹا سا ٹی ٹی پسٹل تھا،حملہ اناڑی پن سے کیا گیا تھا،میں ایسا کیوں کرتا ؟۔جب ان سے پوچھاگیاکہ پھر جنرل عرفان ملک نے یہ کروایا تھاکیونکہ ابصار عالم نے ان کی تصویر ٹویٹر پر لگائی تھی، انہوں نے یہ کام غصے میں کیا ہوگا؟سابق آرمی چیف نے کہاکہ میرے علم میں نہیں، ہو سکتا ہے نیچے کے لیول پر کسی کو غصے آگیا ہو اور اس نے یہ کام کیا ہو، آرمی چیف کو ہرچیز کی خبر نہیں ہوتی، اس کے کرنے کے اوربہت کام ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مطیع اللہ جان والا واقعہ ایجنسی نے بھونڈے طریقے سے کیا تھا،میں نے اس پر جنرل فیض کی کلاس لی پھر مطیع اللہ جان کو چھڑوایا۔انہوں نے کہاکہ مجھ پر اعظم سواتی اور شہباز گل کو ننگا کرنے کا بھی الزام غلط لگایا گیا۔میں ساٹھ، باسٹھ سال کا ہوں، اس عمر میں کسی کو ننگا کرواؤں گا؟ ستر سال کے بزرگ اعظم سواتی کو ننگا کیسے کرسکتا ہوں ، مجھ پر شہباز گل کو ننگا کرنے کا الزام بھی غلط ہے،میرا ان چیزوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے،میں نے قبر میں بھی جانا ہے لیکن اعظم سواتی نے مجھے باسٹرڈ تک لکھ دیا۔ اس سوال پر کہ اعظم سواتی تو ایجنسیوں پر الزام لگاتے ہیں؟سابق آرمی چیف نے کہاکہ بعض اوقات ایجنسیوں میں شاہ سے زیادہ شاہ سے وفادار بننے کی کوشش کی جاتی ہے،یہ نچلے لیول پر ہوتا ہے،بہر حال میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ ایمان مزاری نےمیرے متعلق متنازع ٹویٹ کی اور نازیباالفاظ استعمال کئے تو جوانوں کو غصہ آیا، ایک میجرنے کہا کہ ہم اس کو فکس کریں گے تو میں نے منع کردیاکہ نہیں بس قانونی طریقے سے نمٹیں اوراس ایشو کو ختم کردیں،میں ہر طرح کی تنقید برداشت کرتا تھا لیکن ادارے کی عزت کا بھی سوال ہوتا ہے، پھر ایمان مزاری کے خلاف جی ایچ کیو نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کروائی ۔ انہوں نے کہاکہ فوج اور فوجی افسروں کے خلاف جو مرضی کہہ دیں الزام لگا دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،فوجی افسر جواب بھی نہیں دے سکتے ۔پاکستان میں ہتک عزت کے قوانین کمزور ہیں۔ اس سوال پر کہ کیاآپ نے جنرل عرفان ملک کو آئی ایس آئی سے اس لیے ہٹایا کہ انہوں نے مریم نواز کو سمیش کرنے دھمکی دی تھی؟ جنرل (ر) باجوہ نے کہاکہ میں نے نہیں ان کو جنرل فیض نے ہٹایا تھا،جنرل فیض ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی سی دونوں کا کام خود کرنا چاہتے تھے۔جب ان سے یہ پوچھا گیاکہ مریم نواز والا واقعہ کیسے ہواتھاکس نے دروازے توڑنے کا حکم دیا تھا؟ انہوں نے کہا یہ حکم میں نے نہیں دیا تھا، بریگیڈئیر حبیب اس وقت سیکٹر کمانڈر تھے۔کیپٹن صفدر نے مزارِ قائد پر نعرے بازی کی تو عوام ،فوجی جوانوں اور میڈیا کا دباؤ تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائےتو جنرل فیض نے مقدمہ درج کرنے کا کہا تھا مگر نچلے لیول پر کچھ زیادہ ہوگیاپولیس نے جب ریڈ کیا تو کیپٹن صفدر اور مریم نواز الگ الگ کمروں میں تھے وہ دونوں ایک کمرے میں نہیں تھے۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ کو اس پر نواز شریف نے فون کیایا کوئی شکایت کی ؟تو انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے فون کیا نہ کوئی شکایت کی،ہم نے ذمہ دار افسر کو ہٹا دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان جھوٹ بولنے میں بہت مہارت رکھتے ہیں۔وہ بہت چالاک آدمی ہیں اور جھوٹ جھوٹ بار بار بولتے ہیں اور لوگ اس پر یقین کرلیتے ہیں۔اس سوال پر کہ شیخ رشید جی ایچ کیو کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اور خود بھی بتاتے ہیں ؟سابق آرمی چیف نے کہاکہ وہ کوئی جی ایچ کیو کے قریب نہیں ہے ، وہ ایسے ڈینگیں مارتا ہے،جب میں گورڈن کالج گیا تو اس سے چھ سال پہلے شیخ رشید کالج سے جا چکا تھامیں تو اس کو زندگی میں صرف دو دفعہ ملا ہوں۔ایک دفعہ وہ فروری 2022میں میرے پاس آیا تھا اور کہتا کہ عمران خان سے حکومت نہیں چل رہی کچھ کریں۔ شیخ رشید جیسے جھوٹے آدمی سے بھلا میں کیوں ملوں گا اس کا کوئی انٹلیکٹ لیول نہیں ہے۔بالکل فارغ ہے اورمسلسل جھوٹ بولتا ہے اورایسے ہی نجومیوں کی طرح تاریخیں دیتا ہے۔ جنرل(ر) باجوہ نے کہامیں جب لمز یونیورسٹی گیا ۔لمز یونیورسٹی اینٹی اسٹبلشمنٹ سمجھی جاتی ہے لیکن میں نے وہاں چھ گھنٹے سے زائد گفتگو کی،طلباء کے سوالات کے جواب دئیے، اس پر یونیورسٹی کے ریکٹر نے کہا سر آپ کو استاد ہونا چاہیے ، آپ بہت رواں گفتگو کرتے ہیں۔
عمران بہت چالاک، جھوٹ بولنے میں ماہرہیں،شیخ رشید میں کوئی دانش نہیں،جنرل باجوہ








