ملتان(مقبول حسین) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا الیکشن سے فرار، تحریک انصاف کو کالعدم قرار اور عمران خان پر پابندی لگانا ہے۔الیکشن التواء کرنا آئین سے ماورا اقدام،اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجو ع کریں گے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاک فوج ہماری فوج ہے اور مضبوط فوج پاکستان کی ضرورت ہے اور ہمیشہ پاک افواج کے ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ یہ شہباز شریف کی شرارت ہے کہ وہ پراپگینڈہ کرکے پاک افواج اور تحریک انصاف کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں حکومت کی دوسری چالو ں کی طرح یہ چال بھی ناکام ہوگی۔بیک ڈور ڈائیلاگ کے حوالے سے قیاس آرائیاں غلط ہیں۔ سیاست میں ڈائیلاگ کا راستہ کھلا ہوتا ہے شفاف اور فوری انتخابات کے لئے مل بیٹھنے کے لئے تیار ہیں اگر حکومت الیکشن پر بات چیت کرنا چاہتی ہے تو ایجنڈا دے مل بیٹھیں گے۔ شہباز شریف کو اسحاق ڈار کے ایٹمی پروگرام بارے وضاحت دینی چاہئے۔ بلاول بھٹو تو اپنا سی وی لیکر دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں۔ پی ڈی ایم میری بیٹی کو ہرانے کیلئے تو یکجا ہو گئے تھے لیکن ان صوبائی حلقوں میں پی پی او ر ن لیگ علیحدہ علیحدہ درخواستیں دے رہے ہیں۔ موسیٰ گیلانی کو بلخصوص کہنا چاہتا ہوں بیٹا اب قابو رہنا میدان سے بھاگنا نہیں ہے۔ 25 مارچ کو مینار پاکستان پر تحریک انصاف کا تاریخی اجتماع ہونے جارہا ہے جس میں جنوبی پنجاب کے عوام بھر پور حصہ ڈالیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مخدومزادہ زین حسین قریشی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہاعوام دیکھ ررہی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ کیا ہو رہاہے۔عمران خان کے خلاف 127 مقدمات بنائے جا چکے ہیں۔قوم دیکھ رہی ہے کس طرح زمان پارک پر دھاوا بول دیا گیا۔ گھر میں گھس کر چیزیں اٹھا لی گئیں اور چیزیں لگا دی گئیں۔ان انتقامی کاررائیوں کا مقصد دباؤھانا ہے لیکن زمانہ بدل گیا ہے۔انتقامی سیاست کو برداشت کر رہے ہیں۔ جن کا خیال تھا کہ تحریک انصاف برگر پارٹی ہے انہیں سمجھ آگئی ہے۔انہوں نے کہا میرے کاغذات نامزدگی پر بھی اعتراضات لگائے گئے اور اس حوالے سے ایک پیادے کو استعمال کیا گیا ہے۔اس وقت الیکشن میرے نزدیک اہمیت نہیں رکھتے میں الیکشن لڑوں یہ نہ لڑوں لیکن معاملات اس سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ ایک نظریہ کی خاطر الیکشن لڑ رہا ہوں۔ اس طرح کے بھونڈے اقدامات سے مجھے عمران خان سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کوشش تھی کہ رمضان المبارک سے پہلے جلسہ کرتے لیکن مجبوراً کرنا پڑ رہا ہے۔پی ایس ایل کی وجہ سے یہ جلسہ مجبوراً ہمیں رمضان المبارک میں کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ تحریک انصاف کا چھٹا جلسہ نمایاں اور بڑا جلسہ ہوگا۔جو عمران خان کی قیادت میں ہوگا۔ آئی ایم ایف کی وجہ سے پیٹرول پر سبسڈی واپس لے لی گئی۔ایک طرف کہا جا رہا تھا کہ غریبوں کے لئے پیٹرول سستا کیا جار ہا ہے اگلے دن یہ بات واپس لے لی جاتی ہے جب آپ عمل نہیں کرسکتے تو اعلان کیوں کرتے ہیں۔انہو ں نے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کہا ں گیا۔ وزیر خزانہ ملک کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سینیٹ میں بیان دیتے ہیں وزیر خزانہ کا اس حساس معاملے پر بیان دینے سے قوم میں تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس ایشو پر وزیر خارجہ کو وضاحت کرنی چاہئے۔ لیکن بلاول بھٹو تو اپنا سی وی لیکر دنیا میں گھوم رہے ہیں اب وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے صمدی اسحاق ڈار کے ایٹمی پروگرام بارے غیر ضروری بیان پر قوم کو وضاحت پیش کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری اہم سفیروں سے تفصیلی ملاقات جس میں ہم نے ان کے سامنے تحریک انصاف کا نقطہ نظر رکھا اور انہیں بتایا کہ تحریک انصاف کی پاکستان کی بڑی اور وفاقی جماعت ہے باقی سب جماعتیں چھوٹے چھوٹے گروہ بن گئے ہیں۔ ہم نے انہیں ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اور انہیں تصویر کا دوسرا اور حقیقی رخ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قید تنہائی میں بہت کچھ سیکھا ہے کہ اور کم از کم مجھ پر یہ داغ تو دھل گیا ہے کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہوں۔ میں نے خود آگے بڑھ کر گرفتاری پیش کی۔ نہ ہم نے لندن کی ٹکٹ کٹوائی اور نہ پلیٹس گرے ہیں۔ انہوں نے کہا عمران خان کی جان کو حقیقتاً خطرہ ہے یہ کوئی کہانی نہیں ہے۔ وزیرآباد پر ان پر حملہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بے نظیر بھٹو کے دورمیں ان کے بھائی‘ لیاقت علی خان کو اور بے نظیر بھٹو کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت ملی تو ہم انشاء اللہ علیحدہ صوبہ ضرور بنائیں گے۔ انہوں نے کہا سعودیہ اور ایران کے درمیان صلہ کے حوالے سے پیش رفت کا ہونا اچھی بات ہے۔ عمران خان نے بطور وزیراعظم بات کی اور مجھے ذمہ داری سونپی۔اب اگر دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس کی اثر خطے پر پڑے گا۔ انہوں نے الیکشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے وزارت خزانہ سے الیکشن کروانے کے لئے 20ارب مانگے۔ لیکن بتایا گیا الیکشن کے لئے فنڈز نہیں۔ جبکہ آٹے پر 100ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ انہوں نے کہا دراصل یہ لوگ الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ لیکن نا چاہتے ہوئے بھی انہیں الیکشن کروانا پڑیں گے#
مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا الیکشن سے فرار، تحریک انصاف کو کالعدم قراردینا،عمران پر پابندی لگانا ہے،شاہ محمود قریشی








