بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وہ علاقے جہاں مرنے پر پابندی لگادی گئی

 یقین کرنا مشکل ہوگا مگر دنیا کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد کردی گئی،  کہاں کہاں یہ غیر معمولی پابندی لگادی گئی اور کہاں آج بھی یہ پابندی برقرار ہے اس کی تفصیلات یہاں آپ کو بتاتے ہیں۔

اگست 2015 میں جنوبی اٹلی کے اس قصبے سیلیا Sellia کے میئر نے حکم جاری کیا تھا کہ یہاں کے رہائشیوں کو بیمار ہونے اور مرنے کی اجازت نہیں۔چند سو افراد کی آبادی پر مشتمل اس قصبے میں زیادہ تر کی عمر 65 سال سے زائد ہے اور میئر کے مطابق ان کی موت درحقیقت قصبے کی ہلاکت ہے۔

ان کے مرنے پر پابندی کا بنیادی مقصد لوگوں کے اندر خود کو صحت مند رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور جو فرد ہر سال اپنا طبی معائنہ نہیں کراتا، اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

جنوبی فرانس کے گاؤں Cugnaux کے قبرستانوں میں جگہ ختم ہونے اور زیرزمین پانی کی سطح بڑھنے کے نتیجے میں انتقال کر جانے والے افراد کی تدفین ایک مسئلہ بن گئی تھی۔جو جگہ دستیاب تھی وہ ایک فوجی ائیر بیس کے قریب تھی اور وہاں وزارت دفاع نے تدفین کی اجازت دینے سے انکار کیا تو 2007 میں میئر نے ایسے افراد کے لیے مرنا غیر قانونی قرار دے دیا جو اپنی تدفین کا انتظام قبل از وقت نہیں کرتے۔ یہ اعلان کام کرگیا اور وزارت دفاع نے لوگوں کی تدفین کی اجازت دے دی۔

Cugnaux سے متاثر ہوکر 2008 میں جنوبی فرانس کے ایک اور گاؤں Sarpourenx کے میئر نے بھی رہائشیوں کے مرنے پر پابندی عائد کی۔اس کی وجہ بھی قبرستان میں گنجائش ختم ہونا تھا اور میئر نے اپنے حکم میں کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی عدالت نے میئر کو قبرستان میں توسیع کی اجازت نہیں دی جبکہ مرنے کو غیر قانونی قرار دینے کے حکم کے خلاف بھی فیصلہ سنایا، جس پر مقامی افراد بھی میئر کے ساتھ ہوگئے۔میئر اور لوگوں کے احتجاج کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اب بھی وہاں مرنے پر پابندی عائد ہے۔

وہاں کسی فرد کو مرنے کی اجازت اسی وقت ہوتی ہے جب اس نے قبرستان میں پہلے سے جگہ حاصل کی ہوئی ہو، ورنہ کسی اور جگہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

برازیل کے قصبے Biritiba-Mirim کے مقامی قبرستان میں2005 میں جگہ ختم ہونے پر میئر نے مرنے پر پابندی عائد کی۔اس قانون کا مقصد نئے قبرستان کی تعمیر کی اجازت نہ دینے پر وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

چونکہ یہ قصبہ زراعت کے حوالے سے معروف ہے تو ماحولیاتی قوانین کو جواز بنا کر نئے قبرستان کی تعمیر روکی گئی۔مگر پھر وہاں 2010 میں نیا قبرستان تعمیر کرایا گیا تھا۔

جنوبی اسپین کے قصبے لانجارون میں 1999 میں حکام نے قبروں کے لیے جگہ نہ ہونے پر رہائشیوں کے مرنے پر اس وقت تک پابندی عائد کر دی جب تک نئے قبرستان کے لیے جگہ نہیں مل جاتی۔

اس حکم نامے میں رہائشیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھیں تاکہ وہ قبرستان کے لیے زمین خریدنے تک زندہ رہ سکیں۔اس کے بعد کیا ہوا یہ واضح نہیں، یعنی زمین خریدی گئی یا نہیں اور وہاں اب بھی یہ قانون نافذ ہے یا نہیں، اس بارے میں تفصیلات موجود نہیں۔

ناروے کے قصبے لانگایربین میں 2 ہزار کے قریب افراد مقیم ہیں اور یہاں قبرستان بھی ہے مگر اسے دہائیوں سے استعمال نہیں کیا گیا۔اس کی وجہ کافی حیران کن ہے۔1950 میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ قبرستان میں دفن شدہ لاشیں ڈی کمپوز نہیں ہورہیں۔یہاں کا موسم بہت سرد ہوتا ہے اور عموماً برف جمی رہتی ہے جس کے باعث وہاں دفن لاشوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جس سے جان لیوا جراثیم پھیلنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

جراثیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وہاں 1950 میں لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد کی گئی اور قریب المرگ افراد کو ناروے کے مختلف حصوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔