بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چین نے تائیوان کے پانیوں میں جنگی جہاز تعیناتی کر دیئے

بیجنگ: چین نےتائیوان کی صدر کی امریکی کانگریس کے اسپیکر سے ملاقات کے بعد تائیوان کے پانیوں میں جنگی جہاز تعینات کر دئیے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان کی وزارت دفاع نے کہا ہےکہ جزیرہ تائیوان کو چین سے الگ کرنے والے پانیوں میں تین اضافی جنگی جہازوں کا پتہ چلا ہے۔ بیان کے مطابق صبح چھ بجے کے آس پاس تائیوان کے ارد گرد پی ایل کے ایک ایئرکرافٹ اور تین جنگی طیاروں کا بھی پتہ چلا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تائیوان کی وزارت دفاع کا مزید کہنا تھا مسلح افواج نے صورت حال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور فضائیہ، بحریہ کے جہازوں اور زمین سے استعمال کیے جانے والے میزائل سسٹم کو ان سرگرمیوں کا جواب دینے کا کام بھی سونپا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں تائیوان کے وزیردفاع چیو کوؤ چینگ نے کہا جب ایک طیارہ بردار جنگی جہاز باہر آتا ہے تو عام طور پر طیاروں کی پرواز اور لینڈنگ بھی ہوتی ہے، تاہم ہمیں ابھی تک کوئی ٹیک آف یا لینڈنگ نہیں دکھائی دی ہے۔ ہم اس پر نظر رکھیں گے
یاد رہے کہ چین نے فریقین کے درمیان ملاقات کے حوالے سے کئی بارخبردار کیا تھا کہ اور کہا تھا کہ یہ میٹنگ نہیں ہونی چاہیے۔ ملاقات سے چند گھنٹے قبل ہی بیجنگ نے تائیوان کے قریب پانیوں میں ایک طیارہ بردار جنگی جہاز تعینات کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر کیون میکارتھی نے بدھ کے روز لاس اینجلس کے قریب سمی ویلی میں واقع رونالڈ ریگن لائبریری میں صدر سائی انگ وین کا خیر مقدم کیا۔ تائیوان کی صدر لاطینی امریکہ کے دورے پر تھیں جس کے بعد یہ محض راستے میں تھوڑی دیر کے لیے رک کر ملاقات کا ایک موقع تھا۔
ملاقات کے دوران میکارتھی نے تائیوان کی صدر کو امریکہ کا عظیم دوست بتایا۔ ان کا کہنا تھا، میں پر امید ہوں کہ ہم امریکہ اور تائیوان کے لوگوں کے لیے اقتصادی آزادی، جمہوریت، امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنے کے راستے تلاش کرتے رہیں گے۔
اسپیکر نے امریکہ اور تائیوان کے درمیان دوستی کو آزاد دنیا کے لیے گہری اہمیت کا معاملہ قرار دیا۔ صدر سائی نے میکارتھی کی مہمان نوازی کو کیلیفورنیا کی دھوپ کی طرح پر جوش بتایا۔
تائیوان کی صدرسائی انگ وین نے کہا، ان کی موجودگی اورغیرمتزلزل حمایت تائیوان کے لوگوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم الگ تھلگ نہیں اور تنہا بھی نہیں ہیں۔