بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مشک بلاؤ: ایک ایسا جانور جو بلاشبہ قدرت کا شاہ کار اور ایک عجوبہ ہے

آپ کو یہ جان کر حیرت ہی نہیں بلکہ کراہت کا احساس بھی ہوگا کہ دنیا کے کئی ممالک میں نیولے نما ایک جانور کے فضلے سے تیّار کردہ کافی بہت شوق سے پی جاتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس جانور کا نام Civet Cat ہے جسے ہم مشک بِلاؤ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ پراسرار اور عجیب و غریب جانور اکثر پھلوں کے درختوں کے درمیان اپنی غذا اور خوراک حاصل کرنے کے لیے منڈلاتا نظر آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ انتہائی شرمیلا اور انسانوں سے دور رہنے والا جانور ہے۔ یہ بہت کم انسانوں پہ حملہ آور ہوتا ہے۔
مشک بلاؤ Viverridae خاندان سے تعلق رکھتا ہے جس کی لگ بھگ 35 مختلف اقسام ہیں جن کی رنگت اور جسم پر موجود دھاریاں یا دھبّے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس جانور کا جسم لمبا، پاؤں اور کان نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں۔
یہ جانور ایشیا اور افریقا کے گھنے اور نیم جنگل زدہ علاقوں میں دیکھنے کو ملتا ہے اس کی کچھ اقسام جنوبی یورپ کے نیم جنگلات میں بھی پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ انوکھا جانور موجود ہے اور آم اور جامن کے درختوں کے پاس اپنا گھر بنا کر رہتا ہے۔
اپنے جسم سے خطرناک کیمیائی مادہ خارج کرنیوالا یہ پراسرار جنگلی جانور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں بھی گھس گیاجس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔اس جنگلی جانور نے کئی دفتر تباہ کرڈالے جس کے بعدحفاظتی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے گھیرا ڈال کر اسے پکڑ کر محکمہ جنگلی حیات کے حوالے کردیا ہے ۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے عملے کے مطابق اس جنگلی جانور نے کئی دفاتر کو نقصان پہنچایا ہے لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ یہ جانور اپنے جسم سے ایک کیمیائی مادہ خارج کرتا ہے جو انسانوں کے لئے خطرناک ہے عملے کا کہنا ہے کہ اس مادے کی وجہ سے انہیں سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں شدید جلن ہوتی ہے ۔
دوسری طرف ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ یہ جانور civet ہے جو کہ افریقا اور ایشیا میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔ ممالیہ جانور بلی کی نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اپنے گلینڈز سے انتہائی تیز بو والا کیمیکل خارج کرتا ہے ۔
یہ جنگلی جانور رات کا شکاری ہے اور عام طور پر دن کو باہر نہیں نکلتا۔ یہ شکار کے لیے بھی اکیلے ہی نکلتا ہے۔ پھل اور گوشت دونوں اس کی مرغوب غذا ہیں جب کہ بہت سارے بیج دار پھل مثلاً آم، جامن، چیری وغیرہ بھی کھاتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے سانپ، کیڑے مکوڑے، مینڈک، چھپکلیاں چوہے بھی کھا جاتا ہے۔
فلپائن، تھائی لینڈ، ویتنام اور انڈونیشیا وغیرہ خطِ استوا کے ممالک جہاں گھنے جنگلات موجود ہیں، ان میں اس جانور کی ایک نسل Asian Palm Civet پائی جاتی ہے۔ یہ وہی نسل ہے جس کے فضلے سے کافی تیّار کی جاتی ہے۔ مشک بلاؤ خصوصاً چیری پھل کھاتا ہے اور اسے بیج سمیت ہڑپ کرلیتا ہے جنھیں اس کا نظامِ انہضام خارج کردیتا ہے اور پھر یہی فضلہ سکھانے کے بعد اس میں سے بیجوں کو الگ کر کے ان سے کافی بنائی جاتی ہے۔
قدرت کا نظام دیکھیے کہ اس کے معدے میں جانے کے بعد ان بیجوں میں وہ خاصیت پیدا ہوجاتی ہے جو ہم انسانوں کو مرغوب ہے۔ دراصل مشک بلاؤ کے پیٹ میں پہنچ کر بیجوں میں قدرتی نظام کے تحت جو خامرے شامل ہوتے ہیں، وہ اس تاثیر کے حامل ہوتے ہیں جن سے تیّار کردہ کافی خاص بن جاتی ہے۔
چونکہ یہ خاص طریقے سے بنائی گئی کافی ہوتی ہے، اس لیے منہگی بھی ہے۔ ایک پائونڈ کافی کی قیمت 1300 امریکی ڈالر اور ایک کپ کی قیمت 100 امریکی ڈالر ہوسکتی ہے۔ وجہ اس کافی کا وہ خاص ذائقہ ہے جو مشک بلاؤ کے معدے میں پہنچنے کے بعد ہی اس میں پیدا ہوتا ہے۔
جب لوگوں کو نیولے نما اس جانور کی خاصیت کا علم ہوا تو مختلف ممالک میں اسے کاروبار کا ذریعہ بنالیا گیا۔ آج اس مخصوص نسل کو فارم ہاؤس یا وسیع باغات میں پالا جاتا ہے اور اس کے فضلے سے یہ بیج حاصل کیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ بیج حاصل کرنے کے لیے مشک بلاؤ کو صرف چیری کے پھل کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
بات ہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ قدرت کے اس شاہ کار جاندار کی ایک اور خاصیت اس کے سرین میں موجود تھیلی ہے جس سے ایک خوش بُو دار مادّہ حاصل ہوتا ہے۔ اسے زُباد کہتے ہیں۔
قدرت نے اس مادّے کے ساتھ مشک بلاؤ کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ اس کی مدد سے اپنے علاقے کا تعیّن کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر نشان لگا سکے، لیکن انسانی خواہشات کے سبب یہ خوبی کو اس جانور کے لیے باعثِ آزار اور اکثر موت کی وجہ بن رہی ہے۔ یہ مادّہ حاصل کرنے کے لیے مشک بلاؤ کو پکڑ کر اس کی تھیلی کو چیرا لگایا جاتا ہے اور اس دوران جان سے بھی مار دیا جاتا ہے۔ یہ خوش بُو پرفیوم بنانے والی کمپنیاں حاصل کرتی رہی ہیں۔
بہت سے ایشیائی ممالک مثلاً چین میں اس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے۔ مشک بلاؤ کو سارس وائرس کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکا میں اس جانور کی برآمد پر پابندی ہے۔