بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مہنگائی سے تنگ ماں نے بچے کو جھینگر کھلانا شروع کردیے

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون اور مصنف ٹفینی نے انکشاف کیا ہے کہ بڑھتی مہنگائی کے دوران انہوں نے اشیائے خورونوش کا بجٹ کم کرنے کیلئے اپنے 18 ماہ کے بچے کو جھینگر کھلانا شروع کردیا۔

دنیا بھر کے ممالک میں مہنگائی کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے لیکن تنخواہوں کا تناسب جوں کا توں ہے، بڑھتی مہنگائی میں بجٹ کنٹرول میں رکھنے کیلئے گھریلو خواتین کئی جتن کرتی ہیں لیکن کینیڈا میں مقیم ایک مصنفہ ماں نے 18 ماہ کے بچے کی ڈائٹ میں حیران کن تبدیلی کے ذریعے دنیا بھر کو حیران کردیا۔

لکھاری خاتون نے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ بطور فوڈ رائٹر میں اینٹوموفیجی (حشرات خوری ) کے تمام ذائقوں کو چکھنے والے افراد میں شامل ہوں ، میں ویتنام اور تھائی لینڈ کے سفر کے دوران چیونٹیوں اور جھینگر تک کھاچکی ہوں۔

ٹفینی نے بتایا کہ بڑھتی مہنگائی میں بیٹے کی غذا میں بطور جھینگر شامل کرنا ایک شعوری فیصلہ تھا، ایک بچے کے ساتھ ہمارے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہفتہ وار 250 سے 300 ڈالر اضافہ ہوا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر میں نے اپنے بیٹے کو جھینگر سے تیار اسنیکس اور جھینگر پروٹین پاؤڈر کھلانا شروع کیا۔

خاتون کے مطابق یہ حشرات الارض مہنگے ترین جانورو ں جتنی پروٹین رکھتے ہیں، بچے کی خوراک میں کی گئی اس تبدیلی کے ذریعے میں ہفتہ وار 150 سے 200 ڈالر اشیائے خورونوش کے بجٹ کو کم کرلیتی ہوں۔