بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اگر آپ کو گاڑی چوری سے بچانے کے طریقے نہیں معلوم تو جانئے

اگر کسی پارٹی، معلوماتی سیشن، سیر یا کسی اور موقع پر کوئی شخص بے چین دکھائی دیتا ہے اور بار بار کھڑکی کے پاس جاتا ہے تو سمجھ جائیں انہوں نے گاڑی کسی غیرمحفوظ مقام پر پارک کر دی ہے۔
گاڑی کھو جانے کے بعد اسے ڈھونڈنے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے سے یہ سیکھ لینا بہرحال آسان ہے کہ اسے کھونے ہی نہ دیا جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق کچھ ایسے نکات ویب سائٹ سیف وائز کی رپورٹ میں بتائے گئے ہیں جن میں کچھ آلات استمعال کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
دروازے اور چابیاں
اگر آپ کا خیال ہے کہ گاڑی یکدم چوری ہوتی ہے تو ایسا نہیں ہے۔ عام طور پر چور منصوبہ بندی کے تحت گاڑی سے اترنے والوں کی حرکتیں نوٹ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شیشے چڑھانے کے بعد چابیاں ہاتھ میں لیے اترتا ہے اور اس کے بعد بھی گاڑی پر نگاہ ڈالتا ہے تو چوری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ سب کچھ چوروں کی نگاہ میں ہوتا ہے۔
اسی طرح لاپرواہی سے اترنا، چابی گاڑی میں چھوڑ کر پھر سے مڑ کر اٹھانا اور نکلنے کے بعد مڑ کر نہ دیکھنا چوروں کے لیے حوصلہ افزا ہوتا ہے۔
کچھ لوگ صرف اس وجہ سے گاڑی چوری کروا بیٹھتے ہیں کہ وہ اس کے لیے ایک آسان موقع دے دیتے ہیں۔
ویلے کی
یہ ایک اضافی چابی ہوتی ہے جو بڑی گاڑیوں میں اوریجنل چابی کے ساتھ دی جاتی ہے۔ اس سے صرف دروازہ کھلتا ہے اور گاڑی سٹارٹ ہوتی ہے جبکہ ڈگی یا بانٹ وغیرہ نہیں کھل سکتا، یہ ویلے پارکنگ کی سہولت دینے والے کارکنوں کے لیے ہوتی ہے۔
عموماً لوگ اس کو گاڑی کے اندر ہی رکھتے ہیں۔ چوروں کی رسائی ناممکن بنانے کے لیے اس چابی کا ہٹایا جانا بھی ضروری ہے۔
ویلے چابی بی ایم ڈبلیو، نسان، ووکس ویگن اور دوسرے بڑے برانڈز کی سپورٹس گاڑیوں میں ہوتی ہے۔
لاکس کو موثر بنائیں
اگر آپ کے پاس پرانی گاڑی ہے اور اس میں اسی دور کے مینوئل لاکس لگے ہیں تو یہ خطرناک بات ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے آپ پرانی گاڑی بھی رکھیں تاہم اس میں نئے لاکس لگوائیں جن کی بدولت صرف ایک بٹن دبانے پر گاڑی لاک ہو جاتی ہے اور بھول جانے کا احتمال بھی کم ہوتا ہے۔
اس کے لیے پاور لاک ایکٹوویٹر کا مشورہ دیا جاتا ہے اور یہ زیادہ مہنگے بھی نہیں ہوتے۔
ریموٹ کار سٹارٹر لگوائیں
ایسی صورت حال سے بچنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ گاڑی میں ریموٹ سٹارٹر لگوائیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے گاڑی سٹارٹ تو ہو جاتی ہے مگر گیئر نہیں لگایا جا سکتا اور ظاہر ہے اس صورت میں کوئی گاڑی نہیں لے جا سکتا۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ گھر سے نکلتے ہی بٹن دبا دیں اور جب اس میں بیٹھیں گے تو وہ وارم اپ بھی ہو چکی ہو گی۔
کچھ ریموٹ سٹارٹرز کے ساتھ الارم بھی منسلک ہو جاتا ہے جبکہ کچھ موبائل ایپ کے ذریعے بھی کنٹرول کیے جا سکتے ہیں جبکہ چوری کی صورت میں پتہ لگانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
سمارٹ کار الارم
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی گاڑی سے چھیڑ چھاڑ کرے تو فوراً الارم بج جاتا ہے جس سے گاڑی کو چوری ہونے سے بچایا جا سکتا ہے جبکہ کچھ الارم ایسے بھی ہیں جو مالک کو موبائل فون پر بھی خبردار کر دیتے ہیں۔
کِل سوئچ لگوائیں
اس کو عام طور پر چور سوئچ یا چور بٹن بھی کہتے ہیں جو گاڑی کی اندرونی وائرنگ کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ اس کو دبانے کے بعد گاڑی سٹارٹ نہیں ہوتی۔ اس لیے کسی کے ہاتھ چابیاں لگ بھی جائیں تو پھر بھی وہ گاڑی سٹارٹ نہیں کر پائے گا۔
سٹیئرنگ وہیل
کچھ گاڑیوں کے سٹیئرنگ وہیل میں لاک لگا لگایا آتا ہے جبکہ بعد میں بھی لگوایا جا سکتا ہے جس کی الگ سے چابی ہوتی ہے تاہم ایسے سٹیئرنگ وہیل لاکس بھی ہیں جو الگ سے ملتے ہیں اور گاڑی پارک کرنے کے بعد ان کو سٹیئرنگ وہیل سے اوپر یا نیچے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر کوئی گاڑی میں گھس کر سٹارٹ بھی کر لے تو وہ سٹیئرنگ وہیل کو گھما نہیں سکتا۔
اسی طرح بریک اور ٹائر لاک بھی بازار سے ملتے ہیں ان کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ونڈوز پر وی آئی این
کچھ لوگ گاڑیاں چرانے کے بعد اس کے پرزہ جات کو الگ الگ کر کے بیچتے ہیں تاہم اگر ان پر وہیکل آئیڈنٹیفیکیشن نمبر (وی آئی این) کندہ ہو تو ان تک پہنچا جا سکتا ہے۔ عموماً چور بھی ایسی گاڑی کو چھوڑ جایا کرتے ہیں جن پر وی آئی این کندہ ہو۔
یہ نمبر بہت کم پیسوں میں بازار سے لکھوایا جا سکتا ہے۔
کچھ دوسری ضروری باتیں
آپ کی گاڑی کی حفاظت صرف انہی چیزوں تک محدود نہیں جو اس میں لگی ہوں بلکہ وہ مقام جہاں آپ گاڑی پارک کرتے ہیں یعنی گیراج یا گلی وغیرہ، وہاں پر روشنی کا درست انتظام یقینی بنائیں اور کیمرے کا بھی انتظام کریں۔ اسی طرح وہاں الارم بھی لگائے جا سکتے ہیں۔