کراچی: نیوزی لینڈ اپنے پلیئرز کو آئی پی ایل میں بھیج کر پچھتانے لگا جب کہ فرنچائزز نے ٹاپ کیوی کرکٹرز کوبے کار سمجھ کرسائیڈ لائن کردیا۔
نیوزی لینڈ کرکٹ نے جب پاکستان سے وائٹ بال سیریز اپریل مئی میں شیڈول کی تو اسے معلوم تھا کہ ٹاپ پلیئرز کو آئی پی ایل کھیلنے سے نہیں روکا جا سکے گا، اس لیے دوسرے درجے کے کھلاڑیوں کو ٹی 20 اور ون ڈے سیریز کھیلنے کیلیے بھیجا گیا، ڈالرز کمانے کیلیے ٹاپ پلیئرز بھارت چلے گئے۔
ہیڈ کوچ گیری اسٹیڈ نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اکتوبر میں ون ڈے ورلڈ کپ بھی چونکہ بھارتی سرزمین پر کھیلا جائے گا، اس لیے ٹاپ کرکٹرز کو وہاں پر مسلسل آئی پی ایل میچز کھیلنے سے میگاایونٹ کی تیاری کا بہترین موقع بھی میسر آئے گا مگر ہو اس کے برعکس رہا ہے، نیوزی لینڈ کے زیادہ تر کھلاڑی ڈگ آؤٹ میں بیٹھے دیگر پلیئرز کیلیے تالیاں بجاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
اگرچہ ڈیوون کونووے چنئی سپر کنگز کی جانب سے رنز کے انبار لگارہے ہیں تاہم ان کی قومی ٹیم کے آدھے درجن کے قریب پلیئرز کو کھیلنے کا بہت ہی کم موقع میسر آرہا ہے، ان میں ٹیسٹ کپتان ٹم ساؤتھی، فاسٹ بولر لوکی فرگوسن ، آل راؤنڈرز مچل سینٹنر اور مائیکل بریسویل بھی شامل ہیں، اسی طرح بیٹرز گلین فلپس اور فن ایلن کو صرف ایک میچ ہی کھیلنے کا موقع ملا جبکہ ان کی ٹیمیں اب تک سیزن میں 8، 9 میچز کھیل چکی ہیں۔
ادھر کیوی شائقین جہاں آئی پی ایل میں اپنے اسٹارز کو بینچز پر بیٹھا دیکھ کر مایوسی کا شکار ہیں وہیں پر اپنی بی ٹیم کا پاکستان میں حشر دیکھ کر بھی برہم ہورہے ہیں جہاں انھیں ابتدائی 2 ون ڈے میچز میں شکست ہوچکی ہے، یہ صورتحال کوچ گیری اسٹیڈ کیلیے بھی پریشان کن ہے، ان کے اسٹارز کو زیادہ میچز نہ ملنے سے ورلڈ کپ کی تیاریاں متاثر ہونے کا خدشہ ستا رہا ہے، وہ اپنے پلیئرز کی آئی پی ایل میں موجودگی پر پچھتا رہے ہیں۔









