لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 9 مئی کو میری گرفتاری کے بعد مظاہرین کی صفوں میں جلاؤ گھیراؤ کرنےوالوں کو شامل کیا گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے لکھا کہ 18 مارچ کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں بچھائے گئے اپنے قتل کے جال سے ربّ العزت کے کرم سے بحفاظت نکلنے کے بعد میں نے 22 مارچ کو یہ بیان ریکارڈ کروایا۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے نہایت اصرار سے اپنے کارکنان کو تلقین کی انہیں جتنا مرضی اشتعال دلوایا جائے، انہوں نے مکمل طور پر پرامن رہتے ہوئے ہی احتجاج کرنا ہے۔
پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ جب بھی ایک آزادانہ تحقیق ہوگی میں یہ ثابت کروں گا جلاؤ گھیراؤ کرنے والے بندوق برداروں کو بالکل اسی طرح پرامن مظاہرین کی صفوں میں داخل کیا گیا جیسے یہ اس موقع پر کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے تھے جس کا پردہ میں نے اس ویڈیو میں چاک کیا۔
پی ٹی آئی ٹویٹر پر اپنے ویڈیو بیان میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب چنگیز خان قتل و غارت کرتا تھا تو چند لوگوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا اور انکو کہتا تھا چاروں طرف دنیا کو بتاو کہ میں کتنا ظالم ہوں، میری کتنی دہشت ہے۔ یہاں بھی یہی ہو رہا ہے، لوگوں کے گھر توڑے جا رہے ہیں، عورتوں پر کبھی اس طرح کا ظلم نہیں ہوا جو اب ہو رہا اور ظلم کی داستانیں ٹی وی، سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی ہیں لیکن میرے پاکستانیو یہ وقت اپنی آزادی لینے کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی 70 ہزار سے ایک لاکھ پولیس ہے، لیکن عوام 23 کروڑ ہے، جب عوام یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم ظلم برداشت نہیں کریں گے، جب عوام فیصلہ کر لیں کہ ہمارا آئین ہمیں حقوق دیتا ہے، سپریم کورٹ کے اوپر حملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ عوام بتائیں ہمیں الیکشن چاہئیں، تاکہ منتخب کیے ہوئے نمائندے مسائل سنیں، ہم ان چوروں کے نیچے غلامی نہیں کریں گے، جس وقت عوام نے فیصلہ کر لیا ہم آزاد ہو جائیں گے۔ عوام نے خوف کے بتوں کو توڑنا ہے۔ جب بھی اگلی بار احتجاج کی کال دوں تو سب نے پر امن احتجاج کے لیے نکلنا ہے، کوئی توڑ پھوڑ نہیں کرنی۔ اپنے حقوق اور اپنی آزادی کےلیے سڑکوں پر نکلنا ہے۔
حقیقی آزادی، اگلی کال پر کارکن احتجاج کے لیے تیار رہیں، عمران خان کی ہدایت








