بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’کلّو‘ کا کردار معاشرے کے منہ پر بہت بڑا تھپڑ تھا، ماریہ واسطی

کراچی(نیوز ڈیسک)اداکارہ ماریہ واسطی کا شمار پاکستان کی ان منجھی ہوئی اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک عرصے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری پر راج کیا۔

گندمی رنگت اور دلکش نقوش کے باعث اپنی شناخت بنانے والی ماریہ واسطی کو انڈسٹری سے جڑے 20 سال سے زائد عرصہ گزرگیا ہے لیکن آج بھی ان کی شہرت بطور ہیروئن یا مرکزی کردار کے لیے کم نہیں۔

حال ہی میں ایک نامور ویب سائٹ میں انٹرویو دیتے ہوئے ماریہ واسطی نے کہاکہ آج کل کے ڈراموں کی کہانیاں لڑکا لڑکی کی محبت میں پھنس کر رہ گئی ہیں،جس طرح کے ڈرامے بن رہے ہیں میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا کردار ہو جو پہلے نہ کیا ہو یا جس میں پرفارمنس دکھانے کا مارجن ہو۔

 

ان کا کہنا تھا کہ  وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہیں کہ انہیں کیریئر کے آغاز میں بہت شاندار لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

اپنے ماضی کے مشہور ڈرامے ’کلّو‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’میرا ہٹ ڈرامہ کلّو بہت مختلف تھا جو اس معاشرے کے چہرے پر تھپڑ تھا۔ میں نے جس دور میں کام کیا اس میں کردار اہم ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وہ اداکار ہیں جو حقیقی زندگی پر مبنی اداکاری پر یقین رکھتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی لڑکی جھونپڑی سے نکل رہی ہے اجڑی ہوئی ہے تو وہ ایسی ہی لگنی چاہیے۔

 

انہوں نے کہاکہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ناظرین یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے ہم یہ دکھا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کوئی نئی چیز نہیں بن رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی تجرباتی منفرد کام نہیں ہو رہا۔

ماریہ واسطی نے کہاکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ڈراموں میں جو دکھایا جاتا ہے وہ سوسائٹی کا آئینہ ہوتا ہے تو اگر کسی کو دکھائی جانے والی چیز چُبھ رہی ہے تو غور کریں اورسمجھیں کہ یہ ان کی سوسائٹی کی ہی خامیاں ہیں۔