بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ٹی آئی سے پارٹی رہنمائوں کی علیحدگی کی رفتار تیز، عمران خان نے حملوں سے لاتعلقی نہ کرکے پارٹی پر خودکش حملہ کردیا

اسلام آباد (طارق محمود سمیر)9مئی کے افسوسناک واقعات اورتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے رویے میں لچک نہ لانے اور ان واقعات میں مذمت نہ کرنے کے باعث تحریک انصاف کے اہم سینیئر رہنمائوں کی طرف سے پارٹی سے علیحدگی کرنے کے اعلانات اسی رفتار سے ہوں گے جس تیز رفتاری سے عمران خان اور ان کے بعض قریبی ساتھیوں کو عدالتوں سے غیر معمولی انداز میں ریلیف ملاہے ۔ عمران خان نے فوجی تنصیبات پر حملوں سے اپنی اور پارٹی کی لاتعلقی کا اعلان نہ کر کے پارٹی پر ایسا خود کش حملہ کیا ہے جس کی تلافی فی الحال نظر نہیں آرہی ۔ تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے نہ صرف تحریک انصاف بلکہ سیاست بھی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے ۔عامر کیانی وہ شخصیت ہیں جو عمران خان کے نہ صرف سیاسی بلکہ مالی امور کے لحاظ سے بھی بہت قریب رہے ہیں ، بنی گالا کی زمین کی خریداری میں بھی جمیل عباسی کے ساتھ ساتھ عامر کیانی کا بھی اہم کردار تھا جبکہ شوکت خانم اور فارن فنڈنگ کیس میں بھی عامر کیانی ملوث پائے گئے ۔ چھ اکتوبر کو ایف آئی اے نے عمران خان سمیت دس افراد کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا تھا۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق عمران خان کے خلاف مقدمہ ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے درج کیا گیا۔ایف آئی آر میں ابراج گروپ کے اکانٹ سے 21 لاکھ ڈالر کی رقم کی منتقلی کا ذکر ہے اور مقدمے میں سردار اظہر طارق اور سیف اللہ خان نیازی اور عامر کیانی بھی نامزد ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ابراج گروپ نے تحریک انصاف کے پیسے اسلام آباد کے جناح ایونیو پر واقع ایک بینک کی برانچ میں موجود ایک اکانٹ میں بھیجے تھے۔ ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی کا بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا، تاہم عارف نقوی کا الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا بیان حلفی جھوٹا اورجعلی ہے، لہذا ملزمان نے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، اورنجی بینک اکانٹ کے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔عامرکیانی وہ پہلے وزیر تھے جن پر مبینہ طور پر دس سے پندرہ ارب روپے کی کرپشن کا الزام عائد کیا گیا اور وزیر صحت کے طور پر انہوںنے ادویات کی قیمتوں میں دو سو سے چار سو فیصد اضافہ کروا کے غریب عوام پر ظلم کیا تھا، نہ صرف اپنی بلکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی بھی جیبیں بھری تھیں ۔عامر کیانی جس حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اسی حلقے میں جی ایچ کیو واقع ہے جس پر 9مئی کو تحریک انصاف کے کارکنوں نے حملہ کر کے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو خوش کیا ۔ عامر کیانی عمران خان کے اتنے قریب تھے کہ ان کے ایم پی اے سابق صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ ، عمر تنویر بٹ اور تحریک انصاف کینٹ کے اہم رہنما ملک محبوب الٰہی کو بھی لفٹ نہیں کراتے تھے ۔ عمران خان صاحب کو اگر اب بھی احساس نہیں ہوا تو پھر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔گزشتہ روز کراچی سے محمود مولوی پارٹی چھوڑ چکے ہیں ،پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے جو کچھ کہا وہ بھی عمران خان کے لئے بڑی الارمنگ باتیں ہیں ، علی زیدی نے نہ صرف ان واقعات کی مذمت کی بلکہ یہاں تک کہا کہ فوج بھی ہماری ہے اور پاکستان بھی ہمارا ہے ۔ میں نے تو روزنامہ ممتاز میں 17مئی کو شائع ہونے والے اپنے تجزیئے میں یہ انکشاف کر دیا تھا کہ تحریک انصا ف دس سے پندرہ اہم رہنما جلد پارٹی چھوڑنے کا اعلان کریںگے اور اس پر عمل شروع ہو چکا ہے ۔ آج جو مجھے تحریک انصاف کے کچھ دوستوں کے ذریعے خبریں ملی ہیں ان کے مطابق بیس سے پچیس اہم رہنما جن میں سابق ارکان قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور دو سینیٹر شامل ہیں ۔ ان کے آپس میں رابطے ہوئے اور وہ جلد عمران خان سے اپنی راہیں جدا کر لیں گے ، ان میں سے دس ارکان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اورجنوبی پنجاب والے کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں چلتے کیونکہ 2018کے انتخابات سے قبل جب مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھی تو جنوبی پنجاب کے (ن) لیگیوں کی اکثریت پارٹی چھوڑ گئی تھی اور پی ٹی آئی میں چلے گئے اب وہی لوگ مرحلہ وار (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی میں آرہے ہیں ۔فواد چوہدری کے متعلق بھی یہی اطلاعات ہیں کہ انہوں نے عمران خان کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ وہ فوج کے خلاف کوئی بیان نہیں دیں گے اور اگر انہیں مجبور کیا گیا تو نہ صرف تحریک انصاف چھوڑیں گے بلکہ ایسے انکشافات کریں گے کہ عمران خان کے لئے جو مشکلات پیدا ہوں گی وہ ناقابل تلافی ہوں گی۔فواد چوہدری کی دوسری اہلیہ حبا فواد نے بھی عمران خان سے شکوہ کر دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ ان کے شوہر فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کریں گے اور عمران خان نے اپنی تقریروں میں مسرت چیمہ اور ان کے شوہر کا تو نام لیا مگر فواد چوہدری اور ملیکہ بخاری کا نام نہیں لیا جس سے ہمیں سمجھ آگئی ہے کہ خان صاحب ہمارے ساتھ کتنے وفادار ہیں ۔