بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کارکنان اور پارٹی قائدین کیخلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی ، پی ٹی آئی نےسپریم کورٹ سےرجوع کرلیا

اسلام آباد(ممتازنیوز)پارٹی کارکنان، قائدین کیخلاف کریک ڈاؤن اور ان کیخلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی کے معاملے پر پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت وفاق اور صوبوں میں فوج کی طلبی، تحریک انصاف کے کارکنان، قائدین کیخلاف کریک ڈاؤن اور ان کیخلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف نے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے دائر درخواست کے ذریعے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کر لیا ۔فوج کی طلبی کے وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔ تحریک انصاف کے کارکنان، قائدین کیخلاف جاری بدترین ملک گیر کریک ڈاؤن فوری طور پر رکوانے کی بھی استدعا کردی۔ پرامن نہتے شہریوں اور کارکنان کیخلاف فوجی عدالتوں کے ذریعے کارروائی کے فیصلے کو غیرآئینی و غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی بھی درخواست ۔درخواست بیرسٹر گوہر خان اور عزیر کرامت بھنڈاری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور آئی جیز کو فریق بنایا گیا ہے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کو درخواست کا حصہ بنایا گیا ہے حکومتی وزراء کی جانب سے انتخابات کے انعقاد سے مسلسل انکار کی تفصیلات بھی درخواست کے ساتھ لف کی گئی ہیں آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی طلبی کے جواز اور فوج کی اسلام آباد اور صوبوں میں تعیناتی کے نوٹیفکیشن بھی درخواست کے ساتھ لف کئے گئے ہیں تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پرامن احتجاج کے تصاویری شواہد بھی درخواست کے ساتھ عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش کئے گئے ہیں تحریک انصاف کے کارکنان، قائدین کیخلاف بدترین غیرقانونی کریک ڈاؤن کی تفصیلات بھی عدالت کے سامنے رکھی گئی ہیں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ سے روکنے کے ناقابلِ تردید شواہد کو بھی درخواست کا حصہ بنایا گیا ہے۔درخواست میں لکھا گیا ہے کہ آرٹیکل 245 کا استعمال سیاسی مقاصد کیلئے نہیں کیا جاسکتا۔آرٹیکل 245 کا نفاذ سیاسی مخالفین کو فوج سے لڑوانے کیلئے ہے۔فوجی عدالتوں میں ٹرائل بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔آئین پر شہری کو شفاف اور منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔تاریخ میں کبھی ہزاروں سیاسی کارکنوں اور لیڈرز کا فوجی عدالت میں ٹرائل نہیں ہوا۔عدالت آرٹیکل 245 کا نفاذ اور اسکے تحت ہونے والا کریک ڈائون کالعدم قرار دے۔