بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کور کمانڈر ہاؤس جنھوں نے بھی جلایا جرم ہے، ہم تو الیکشن چاہتے ہیں، انتشار ہو گا تو الیکشن تو نہیں ہوں گے، یہ منظم سازش ہوئی ہے، عمران خان

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کور کمانڈر ہاؤس جنھوں نے بھی جلایا وہ جرم ہے، لیکن پرامن احتجاج جرم نہیں ہے۔
ٹویٹر سپیس پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے میری جماعت نے کور کمانڈر کا گھر جلایا۔ دو تین چیزیں اور بتائی جا رہی ہیں ہماری پارٹی نے جلائی ہیں۔ اس حملے کی بھی انکوائری نہیں ہوئی۔ جلاؤ گھیراؤ جرم ہے، ریڈیو پاکستان یا کور کمانڈر ہاؤس جنھوں نے بھی جلایا وہ جرم ہے، لیکن پرامن احتجاج جرم نہیں ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں انتشار کی کیا ضرورت ہے؟ انتشار کوئی اور چاہ رہا ہے۔ ہم تو الیکشن چاہتے ہیں۔ اگر انتشار ہو گا تو الیکشن تو نہیں ہوں گے۔ یہ منظم سازش ہوئی ہے۔ ماضی میں ایسا ہو چکا ہے ایسے واقعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالفوں کو ختم کیا گیا۔ سب اس لیے کیا جا رہا ہے مجھے اقتدار میں نہیں آنے دینا۔ اسی لیے گرفتاریوں کے ذریعے خوف کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ حکومت نے ہار کے خوف سے آئین اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ بزنس ٹائیکون اور این سی اے میں خفیہ معاہدے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ سپریم کورٹ میں جمع ہوئے جو کابینہ کی منظوری کے بغیر پاکستان واپس نہیں آ سکتے تھے۔ القادر یونیورسٹی کے لیے بزنسمین نے زمین عطیہ کی جس پر مئی 2018ء میں ٹرسٹ نے کام شروع کر دیا۔ اسی سال دسمبر میں بزنس مین اور برطانیہ کی این سی اے کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا کیوںکہ بزنس مین کے اکاوئنٹ فریز کیے ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کے چیئر مین نے کہا کہ بزنس مین اور این سی اے خفیہ معاہدہ کرتے ہیں پیسے سپریم کورٹ میں ان کے اکاوئنٹ میں بطور جرمانہ جمع ہوں گے۔ کابینہ میں یہ چیز آئی اگر آپ اس معاہدے کو مانتے ہیں تو پیسہ آ جائے گا، ورنہ آپ کو برطانیہ میں اس پر کیس کرنا ہو گا۔ ہمارے وزیر قانون نے مشورہ دیا پاکستان باہر ایک سو ملین ڈالر کیسوں میں ہار چکا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کابینہ کو بتایا گیا کہ 190 ملین پاؤنڈ لے لیں یا پھر برطانیہ میں مقدمہ کر لیں اور ہار گئے تو پیسے برطانیہ میں رہ جائیں گے۔ مجھے ذاتی طور پر کیسے فائدہ ہوا؟ پیسہ سپریم کورٹ میں پڑا ہوا ہے۔ نیب کیس کر دے۔ القادر یونیورسٹی سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا، میں تو اس سے کوئی تنخواہ بھی نہیں لیتا۔ میں صرف ٹرسٹی ہوں، جس کی کوئی مداخلت تک نہیں ہوتی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ ہمیں بچائے گا کیوںکہ تقسیم کے باوجود سپریم کورٹ میں دونوں طرف زبردست جج ہیں اور وہ یہ تباہی نہیں ہونے دیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت میں آ کر نگران وزرائے اعلی اور آئی جیز پر کیسز بنائیں گے۔’ کل چانس ہے کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ میں نے آخر تک جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کی جب مجھے پتہ تھا کہ وہ سازش کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف سے بھی میرا کوئی اختلاف نہیں لیکن وہاں سے کوئی اختلاف ہے جو وہ ہی بتا سکتا ہے۔ میں فوج کی تنقید اس طرح کرتا ہوں جیسے بچوں پر تنقید کرتا ہوں، جس کا مقصد اصلاح کرنا ہوتا ہے۔
برطانوی ریڈیو سٹیشن ٹائمز ریڈیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں دوبارہ گرفتار ہو سکتا ہوں، جس کے بعد امکان ہے کہ دوبارہ بڑا احتجاج ہو، میری اپنے پارٹی کے کارکنوں کو ہدایت ہے کسی بھی صورت میں پر تشدد مظاہرے نہیں کرنا، ہر حال میں پر امن احتجاج ہماری منزل ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے انتشار پیدا ہو اور اس کے باعث میری پارٹی پر مزید سختیاں پیدا ہوں، میری جماعت پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے، کارکنوں کو ایک مرتبہ پھر کہتا ہوں حکومتی جال میں پھنسنا نہیں، اس وقت میری جماعت کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں اور صرف الیکشن ہیں، ملکی مسائل کے حل کے لیے نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، 15 کریمنل کیسز سمیت 150 سے زائد کیسز مجھ پر ہیں، منگل کو میں نے اپنے کیسز کے معاملے میں اسلام آباد میں پیش ہونا ہے، میرے جیل جانے کے بہت زیادہ چانسز ہیں۔

میزبان کی طرف سے سوال کیا گیا کہ اس کے بعد مزید پر تشدد مظاہرے ہو سکتے ہیں اور کچھ لوگ جان سے جا سکتے ہیں اس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا واضح پیغام اپنے کارکنوں کے لیے ہے کہ کسی بھی صورت میں تشدد کی طرف نہیں جانا، اس وقت میری پارٹی کے متعدد لوگ جیل میں ہیں، اس سے پہلے خواتین کی بڑی تعداد نہیں جیل گئی تھیں۔

پاکستان میں تحریک انصاف اور جمہوریت کا کیا مستقبل ہے، اس سوال کے جواب میں انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، اس وقت ملک میں مارشل لاء لگا ہوا ہے، اس وقت پاکستان آرمی چیف کے ذریعے چل رہا ہے، پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل بہت تابناک ہے ، پاکستان میں ہماری جماعت کو آپ ختم نہیں کرسکتے، اس وقت ہماری جماعت کی مقبولیت 70 فیصد سے بھی زائد ہے، جبر کی پالیسیوں سے ہماری پارٹی ختم نہیں کی جا سکتی، جب بھی الیکشن ہوں تو ہمدردی کا ضرورت سے زائد ووٹ میری جماعت کو ملے گا ، ہمارے پاس ووٹ بینک ہے، ہم صرف الیکشن چاہتے ہیں، جب بھی انتخابات ہوں گے ہماری پارٹی ہر حال میں جیتے گی۔