بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستانی ڈاکٹرکاسکریپ سے فن پارے تیار کرنے کا منفرد شوق

اسلام آباد(انٹرویو/شیراز حسین)ڈاکٹر سعدیہ نے خواتین کیلئے ایک مثال قائم کرتے ہوئے بتا دیا کہ کوئی بھی کام نا ممکن نہیں ہے، اگر خواتین چاہیں تو کچھ بھی کرسکتی ہے، ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے تقریبا اٹھارہ سال بعد ہاؤس جاب شروع کی، اب سکریپ آرٹسٹ بھی بن گئی اور ناکارہ چیزوں سے آرٹ بناتی ہے، ہارورڈ یونیورسٹی سے آرٹسٹ بننے کا کورس کیا۔ڈاکٹر سعدیہ نے پیر کو روزنامہ ممتاز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر سعدیہ نے کہا کہ میں پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہوں، ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد تقریبا آٹھارہ سال بعد میں نے ہاؤس جاب شروع کردی مجھے ہر کسی نے کہا کہ یہ بہت مشکل کام ہے آپ کے بچے بھی ہیں، گھر بھی ہے ہاؤس جاب کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے سینئرز نے بھی یہی کہا کہ اٹھارہ سال بعد کیا کرنے آئی ہو لیکن جو کچھ میں نے سوچا تھا وہ میں نے اپنی زندگی میں حاصل کرلیا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سعدیہ نے کہا کہ مجھے بچپن سے آرٹسٹ بننے کا بہت شوق تھا لیکن مجھے والدین نے منع کیا اس کے بعد میں میڈیکل فیلڈ میں چلی گئی۔ ڈاکٹر سعدیہ سکریپ آرٹسٹ بھی ہے جو چیز ناکارہ ہوجاتی ہے پیپرز، گتہ ان جیسی چیزوں سے میں آرٹ بناتی ہو اور وہ بھی نفسیات کے اعتبار سے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے ایسے آرٹ بنانا شروع کردی، انہوں نے مزید کہا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو خوشی مل سکےکیونکہ آج کل لوگ بہت زیادہ پریشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے آن لائن آرٹ کا کورس کیا ہے اور میں اپنی بنائی ہوئی چیزیں آن لائن فروخت بھی کرتی ہو، ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سعدیہ نے کہا کہ اگر کوئی سیکھنا چاہتے ہیں تو میں ایک دن میں ان کو کورس کرواسکتی ہو۔