بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مئی میں مہنگائی نے تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے

مئی میں مہنگائی نے تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے، مہنگائی کی شرح 38 فیصد پر جا پہنچی، گوشت، دالیں، سبزیاں ، پھل ، انڈوں سمیت سب کچھ مہنگا، سالانہ بنیادوں پر افراط زر میں13 اعشاریہ8 فیصد اضافہ ہوا، دیہی علاقوں میں مہنگائی42 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
مئی میں مہنگائی نے تاریخ کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ شرح اڑتیس فیصد پر جا پہنچی۔ گوشت، دالیں، سبزیاں ، پھل اور انڈوں سمیت سب کچھ مہنگا ہو گیا۔ سالانہ بنیادوں پر افراط زر میں تیرہ اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق دیہی علاقوں میں مہنگائی بیالیس فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں مہنگائی 29فیصد، گذشتہ سال مئی کی نسبت رواں سال مئی میں مہنگائی 38فیصد جبکہ اپریل کی نسبت مئی میں مہنگائی میں ڈیڑھ فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا۔
ادارہ شماریات کے مطابق اپریل کی نسبت مئی میں بھی مہنگائی بڑھنےکا سلسلہ جاری رہا ۔ ایک ماہ کےدوران آلو 17فیصد، گڑ16فیصد، چکن 11.3 فیصد، انڈے7فیصد، آٹا 6.5 فیصد، ریڈی میڈ فوڈآئٹمز 5.7 فیصد، میٹھائی 4.5 فیصد، دال ماش 3.6 فیصد مہنگے ہوگئے۔
دال مونگ، دال چنا، دال میسور، تازہ دودھ، مشروبات، چنے، دودھ سے بنی اشیا اورسگریٹ بھی مہنگے ہوئے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ماہ میں اخبارات 33فیصد، کرایہ 22.9 فیصد، سٹیشنری اور ٹیکسٹ بکس 5.4 فیصد، صابن موٹرسائیکل کے پرزے 4 فیصد، پلاسٹک پراڈکس 3 فیصد، تعمیراتی سامان ایک فیصد مہنگے ہوئے۔
ایک ماہ میں پیاز 33 فیصد، ٹماٹر 29 فیصد تازہ سبزیاں 10.7 فیصد جبکہ پھل 3 فیصد سستے ہو گئے۔ سالانہ بنیادوں پرمئی میںسگریٹ 148فیصد، چائے 113فیصد، آلو108فیصد، آٹا99فیصد، انڈے 90فیصد، چاول 85فیصد، دال ماش 58فیصد، دال مونگ 58فیصد، تازہ پھل 53فیصد، ریڈی میڈ فوڈ، خشک میوہ جات، بیسن، دال چنا، چنے، مکھن، کوکنگ آئل، تیل سرسوں، اور گڑ مہنگے ہوئے۔
غیرغذائی اجناس میں ٹیکسٹ بکس114فیصد، سٹیشنری 79فیصد، موٹر فیول 70فیصد، صابن 64فیصد، گیس چارجز 63فیصد، بجلی 60فیصد، موٹر سائیکل پرزہ جات 45فیصد، گھریلو سازوسامان 42فیصد، تعمیراتی ساز و سامان اور گاڑیاں 38فیصد، کاٹن کلاتھ 32فیصد مہنگے ہوگئے۔