لاہور(ویب ڈیسک)ڈاکٹر مجاہد منصوری اپنے کالم میں لکھتے ہیں سمجھانے کی کوششیں تو بہت کیں کہ الیکشن 13 کے بعد پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں پولنگ کی جامع تحقیق کا مطالبہ حکومت اکھاڑنے کی خواہش اور پھر اسے پورا کرنے کے لیے طویل دھرنے میں تبدیل ہونا غلط تھا۔
اسی طرح پی ڈی ایم کا ڈیڑھ سال کی مزید عمران حکومت کو اکھاڑنا بڑا سیاسی ڈیزاسٹر ہوگا۔ لیکن عجب الخلقت اپوزیشن اتحاد اسی پر تلا ہوا تھا کہ ہر حال میں وہ اپنا یہ غیر جمہوری مزاج کا، اور سیاسی استحکام کے بنیادی تقاضوں سے متصادم ہدف حاصل کرے۔ پی ڈی ایم اتحاد اس مہم جوئی میں بڑے پاپڑ بیل اور کر کچھ بھی لا حاصل رہ کر منقسم اور نیم جان بھی ہوا، تاہم وقفے کے بعد مولانا صاحب کی بے تابی اور سیاسی کرشمے سے ٹوٹے اتحاد کے تن مردہ میں جان پڑگئی۔ یوں اتحادیوں کے نزدیک وہ قومی سیاست کے مسیحا اور اب اپنے تئیں منصب صدارت کے جائز امیدوار قرار پائے۔ بحالی جمہوریت 2008-18 کے عشرے میں پی پی اور ن لیگی حکومت کی ادائیگی کفارے کی بجائے پھر وہی دھما چوکڑی حکومتوں پر بھی سیاسی استحکام قائم کرنے کے لیے پریشان حال عوام نے جس صبر جمیل کا مظاہرہ کیا، وہ بھی حیران کن تھا۔ دل جلے اور منہ پھٹ تجزیہ کاروں اور مبصرین نے اس پر عوام الناس کو دولا شاہی چوہے بے حس اور جرم ضعیفی کے بڑے مجرم ہونے کے طعنے دیئے لیکن یہ ان کی بے بسی تھی یا کمال صبر، ملک میں جیسے تیسے سیاسی جمہوری اور آئینی عمل کو تھانہ کچہری کلچر اور لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبے ملک میں بھی جاری و ساری رکھنے کا موقع ملا۔ 2008 سے تادم، چلو کرپشن ختم نہ ہوئی، نہ عمرانی حکومت ’’ڈاکو چوروں‘‘ سے ٹکا بھی نکلوا سکی۔
دو وزرا ء اعظم کے عدالتی عمل سے منصب کھونے اور پی ٹی آئی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی وزیراعظم عمران کے ترین اور علیم خان جیسے دست راست احتسابی عمل میں جدا ہو کر جیل گئے اور ان پر مقدمات بنے اور نااہلی کی سزا پائی۔ اس سے عوامی کی نظر میں عدلیہ کا بھرم قائم اور اعتماد بڑھا۔ عوام اس عرصے میں بھی مہنگائی، بے روزگاری کے بلند گراف اور ان کے اپنے اقتدار کے بلدیاتی نظام سے محرومی کے باوجود اس قانونی عمل کی حوصلہ افزائی اور جمہوری عمل کے تسلسل کو برقرار رکھنے، پھر تھانہ کچہری کی ہارڈ شپ کو بے حسی کے طعنوں کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ اس کے برعکس پی ڈی ایم نے پی ٹی آئی کے اقتدار میں آتے ہی جس بری طرح حکومت کا پیچھا باندھا انسانی تقاضوں اور قومی سوچ کے تقاضوں سے ماورا اسے عالمی وبا کے بحران میں بھی شدت سے جاری رکھا، اس میں ہماری مجموعی روایتی سیاسی قیادت کا قد پریشان عوام کے باوقار و کمال سیاسی صبر کے مقابل بونے برابر رہ گیا۔ پی ڈی ایم کی لنگڑی بطخ نما حکومت اور عوام پر طعنہ زن تجزیہ نگار اور سیاسی دانشور، تب نہیں دیکھ سکے تو اب دیکھ لیں کہ عوام بے وقوف ہیں نہ بے حس۔ اب جو پی ڈی ایم نے بیرونی یا اندرونی سازش یا بے جا اور غیر آئینی مداخلت سے ایک ایسی حکومت کو اکھاڑنے کا ’’کارنامہ‘‘ کیا جس کے مہنگائی کے باوجود آئینی مدت تک جاری رہنے پر عوام مکمل آمادہ نظر آ رہے تھے، اسے ’’سندھ ہائوس‘‘ کے ’’آپریشن روم‘‘ سے جس طرح اکھاڑا ہے۔









