اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے ایکسپورٹ، ریمی ٹینس، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی، شرح نمو کا ہدف حاصل نہ ہونے اور کہ قرضوں اور مہنگائی میں اضافے کا اعتراف کیا ہے۔
اسلام آباد میں پُرہجوم میڈیا کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کیا، ان کے ساتھ وفاقی وزیر احسن اقبال اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تھری ایز اسٹریٹیجی متعارف کروائی تھی اور ابھی بھی پانچ ایز اسٹریٹیجی پر پلان بنایا ہے، حکومت نے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا پے، سروے میں سماجی و اقتصادی ترقی ، زراعت، توانائی، آئی ٹی، صنعت سمیت تمام شعبے شامل ہیں، جب حکومت نے ذمہ داری سنبھالی تو مشکل صورتحال تھی اگر مزید کچھ عرصہ ذمہ داری نہ سنبھالتے تو خدا نخواستہ صورتحال کچھ اور ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہورہی تھیں، فنانسنگ کی ضروریات بڑھتی جارہی تھیں، اللہ نے ہمیشہ پاکستان کو اپنی حفاظت میں رکھا ہے، معیشت کی گراوٹ کا عمل رک چکا ہے اور اب ترقی کیلئے کام ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں پہلے سال کی جی ڈی پی 1.6 اور پھر اگلے سال منفی ہوگئی، منفی ہونے سے بنیاد بہت نیچے چلی گئی تھی جس کی وجہ سے جی ڈی پی چھ فیصد ظاہر کی، 2013ء میں جب حکومت سنبھالی تو ملک میں دہشت گردی، بجلی کی لوڈشیڈنگ تھی اور حالت خراب تھی، تھری ایز کے بعد اب فائیو ایز پالیسی پر آئندہ کا روڈ میپ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال انتہائی چیلنجنگ سال تھا، میکرو اکنامک استحکام کی بحالی کے انڈیکیٹرز اقتصادی سروے میں شامل ہیں، میکرو اکنامک استحکام کو بحال کرنا حکومت کا مقصد ہے، 2017ء میں پاکستان دنیا کی 20 ویں معیشت تھا جو اب چالیسویں نمبر پر ہے، جہاں 2017ء میں ملک پہنچ چکا تھا وہیں دوبارہ لے جانا چاہتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت انکلوسیو گروتھ کے راستے پر چلنا چاہتی ہے، ٹیکس وصولیوں کا زیادہ حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں جارہا ہے، مس مینجمنٹ اور پالیسی ریٹ بڑھانے کی وجہ سے قرضے میں اضافہ ہوا ہے، اس سے کہیں زیادہ نقصان عالمی سطح پر آئی ایم ایف کے ساتھ کیے سارے وعدے توڑ دیئے اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے اعتماد کو بہت دھچکا لگا۔









