بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملٹری کورٹس پرفل کورٹ کی تشکیل کی مناسب تجویز

اسلام آباد ( طارق محمود سمیر ) فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات چلانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر رٹ درخواستوں پر ہونے والی سماعت بغیر کسی فیصلے کے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی ہے جبکہ بینچ کے ایک اہم رکن جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے اضافی نوٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز دے دی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف کیس میں 23 تاریخ کی سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں ۔ جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے نوٹ میں سینئر ترین جج اور مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی رائے سے بھی اختلاف کیا ہے وہاں انہوں نے فل کورٹ بنانے کی تجویز دے کر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو اس معاملے پر متوقع عدالتی فیصلے کو قابل قبول بنانے کیلئے اچھی رائے دی ہے۔ چیف جسٹس نے اس سے پہلے بھی چاہے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا معاملہ ہو یا چیف جسٹس کے از خود نوٹس کے اختیار کے معاملے میں دیے گئے حکم امتناعی کا ایشو ہو وکلاء برادری اور بعض حجرہ کی طرف سے فل کورٹ بنانے کی تجویز نہیں مانی اور المعروف تین رکنی بینچ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرایا جا سکے، کہیں ایسا ہی نہ ہو کہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر بھی عدالت کا فیصلہ حکومت تسلیم نہ کرے لہذا ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے اور دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جن 102 ملزمان کیخلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کا فیصلہ ہوا ہے ان کے بارے میں واضح ثبوت میڈیا میں آچکے ہیں، ان کی ویڈیوز ، آڈیوز اورسی سی ٹی وی فوٹیج کے علاوہ دیگر ثبوت بھی اداروں کے پاس موجود ہیں، کچھ ثبوت تو اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں بھی پیش کئے ہیں، ان نا قابل تردید شواہد کے بعد بھی اگر ایسے ملزمان جنہوں نے جی ایچ کیو ، جناح ہاؤس اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہو انہیں اگر کوئی عدالتی فورم آئین اور قانون سے ہٹ کرنا جائز ریلیف دیتا ہے تو اس کا پیغام اور تاثر اچھا نہیں جائے گا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فوج کے افسران اور جوانوں کا مورال ہمیشہ بلند رہنا چاہیے کیونکہ اگر فوجیوں کا مورال ڈاؤن ہو تو یہ ملک اور قوم کیلئے اچھا نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنے کل کے بیان پر قائم ہیں کہ ابھی تک فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن یہ دلیل دیتے رہے کہ ماضی میں فوجی عدالتوں میں جو مقدمات چلے ان کے حقائق مختلف تھے اور اب جو مقدمات چلے ان کے حقائق مختلف ہیں، یہ بات درست ہے پہلے والے مقدمات دہشت گردوں کے خلاف چلائے گئے جنہوں نے بم دھماکے کئے فوجی افسران کو نشانہ بنایا، بے گناہ شہریوں کی جانیں لیں لیکن 9 مئی کے واقعہ میں ملوث تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماوں نے کالعدم تحریک طالبان کے طرز پر خودکش دھما کے تو نہیں کئے لیکن سیاسی دہشت گردی اور شرپسندی کا ایسا مظاہرہ کیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، پیپلز پارٹی ہو یان لیگ انہوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات کے باوجود ماضی میں نہ تو بھی جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کا سوچا اور نہ ہی دیگر فوجی تنصیبات پر لہذا ایسے ملزمان کے خلاف فوجی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانا آئین اور قانون کے مطابق ہے اور فوجی ایکٹ 9 مئی کے بعد نہیں بنایا گیا یہ پہلے سے ہی قانون موجود ہے جس پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔