ویڈن نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کو انفرادی قرار دے کر مسترد کردیا۔
پاکستان میں سویڈن کے سفارت خانے کی جانب سے اپنی گورنمنٹ کا بیان ٹوئٹر پر پوسٹ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سویڈش حکومت اسلاموفوبیا پر مبنی اس عمل کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔

سویڈش حکومت کا کہنا ہےکہ یہ واقعہ سویڈن کی حکومت کا موقف واضح نہیں کرتا ہے۔
— Sweden in Pakistan (@SwedeninPK) July 1, 2023
دوسری جانب یورپی یونین نے ردعمل میں کہا ہے کہ واقعہ جارحانہ اور بےعزتی پرمبنی اشتعال انگیزی کا واضح عمل ہے، یہ عمل کسی بھی طرح یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا، نسل پرستی، نفرت انگیزی اور عدم برداشت کی یورپ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
واقعے کے خلاف عالم اسلام سراپا احتجاج ہے اور دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹوکمیٹی نے آئندہ ہفتے ہنگامی اجلاس بلالیا ہے، اجلاس میں ضروری اقدامات سے متعلق اجتماعی موقف اپنایا جائےگا۔
عراق اور ایران میں سویڈش سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کیے گئے، ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں سویڈش ناظم الامور کو طلب کرلیا، ترکیہ، امارات، اردن اور مراکش سمیت کئی دیگر مسلم ممالک نے بھی سویڈن واقعے پر احتجاج کیا ہے۔








