امریکی شہر سان فرانسسکو میں سکھ مظاہرین نے بھارتی قونصل خانے کو آگ لگا دی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک ٹویٹ میں بھارت سے آزادی کا مطالبہ کرنے والے سکھ کمیونٹی کے افراد کی جانب سے توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی کوشش کو مجرمانہ جرم قرار دیا ہے۔
انہوں نے لکھا، ’امریکا ہفتہ کو سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانے میں مبینہ توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے۔ امریکا میں سفارتی سہولیات یا غیر ملکی سفارت کاروں کے خلاف توڑ پھوڑ یا تشدد ایک مجرمانہ جرم ہے۔‘
The U.S. strongly condemns the reported vandalism and attempted arson against the Indian Consulate in San Francisco on Saturday. Vandalism or violence against diplomatic facilities or foreign diplomats in the U.S. is a criminal offense.
— Matthew Miller (@StateDeptSpox) July 3, 2023
اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر مودی کیخلاف احتجاج
سکھ کمیونٹی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی حکومت کیخلاف نعرے لگائے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت میں خالصتان کا نام لینے والوں کو قید کیا جاتا ہے، عدالتوں سے ملنے والی سزا کے بعد بھی قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، سکھ قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
معاملہ کیا ہے؟
دیا ٹی وی نامی امریکا کے ایک مقامی نیوز چینل نے دو جولائی کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دکھایا گیا کہ خالصتان تحریک کے حامی سکھ افراد نے سان فرانسسکو میں بھارتی قونصل خانے کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ دو جولائی کو صبح ڈیڑھ سے ڈھائی بجے کے درمیان پیش آیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سان فرانسسکو کے فائر ڈپارٹمنٹ نے آگ پر فوری طور پر قابو پالیا۔ نقصان محدود تھا اور کوئی عملہ زخمی نہیں ہوا۔
Indian Consulate set on fire in San Francisco. Khalistanis are claiming for this. Farmers protest has reached a new high. #Wokeflix pic.twitter.com/rbZauw2uAG
— Wokeflix (@wokeflix_) July 4, 2023
امریکہ میں بھارتی سفیر ترن جیت سنگھ سندھو اور قونصل جنرل ڈاکٹر ٹی وی ناگیندر پرساد کو مبینہ طور پر سکھ کمیونٹی کے افراد کی جانب سے گردش کرنے والے ایک پوسٹر میں نشانہ بنایا گیا، جس میں ان پر جون میں ہونے والے ٹائیگر فورس کے سربراہ ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
ہرجیت سنگھ نجار خالصتان تحریک کے ایک رہنما تھے جنہیں 18 جون کو کینیڈا میں قتل کیا گیا۔
نجار خالصتان ٹائیگر فورس کے سربراہ تھے اور انہیں بھارتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ دہشتگردوں کی فہرست میں 40 دیگر افراد کے ساتھ نامزد گیا تھا۔
گزشتہ سال جولائی 2022 میں، بھارتی کی تحقیقاتی ایجنسی نے نجار کے سر پر 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
دریں اثنا، بھارت نے کینیڈین حکام سے کینیڈا میں آئندہ خالصتان تحریک کی ریلیوں کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا تھا۔









