اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے وکیل لطیف کھوسہ کی عبوری ضمانت دینے کی استدعا مستردکردی، لطیف کھوسہ کی ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناع دینے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی۔
نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے سرکاری وکیل سے مقدمے کی تفصیلات طلب کرلیں ، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔
دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ میرے موکل کی جان کو خطرہ ہے مہربانی فرما کر گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ہم دوسرے فریق کو سنے بغیر اس سطح پر کوئی حکم جاری نہیں کرسکتے،جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ اے ٹی اے کا سیکشن 6 اور 7 غلط لگا ہے تو کس قانون سے ان کو ہٹایا جاسکتا ہے؟کس نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملزم پر غلط دفعات کے تحت مقدمے کا اندراج ہوا؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ کا حق ہے کہ جا کر متعلقہ فورم پر درخواست دیں کہ غلط دفعات لگائی ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ ابھی چالان پیش نہیں ہوا اور چیئرمین پی ٹی آئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو گئے، وکیل قتل کیس کا ادراک ابھی کسی عدالت کو نہیں ہوا اور جے آئی ٹی بھی بنا دی، جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ کیا آپ نے جے آئی ٹی کو چیلنج کیا ہے؟وکیل صفائی لطیف کھوسہ نے کہا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ میرے خلاف کیا کیا ہو رہا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کی کون سی دفعہ عدالت کو جے آئی ٹی بنانے کا اختیار دیتی ہے؟ دفعات کے نفاذ کااختیار تو ایس ایچ او کے پاس ہی ہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ ایس ایچ او بھی تحقیقات کے مرحلے پر دہشتگردی کی دفعات عائد نہیں کر سکتا۔
جسٹس عائشہ ملک نے لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اب آپ اپنی ہی مخالفت میں دلائل دے رہے ہیں، جب کیس تحقیقاتی مرحلے پر ہے تو کیسے ایف آئی آر ختم کرنے کی استدعا ہو سکتی ہے؟کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ ایف آئی آر سے یہ دفعات نکال دو؟
عدالت نے لارجر بنچ کے قیام کی درخواست چیف جسٹس کو پیش کرنے کی ہدایت کردی،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سپریم کورٹ کا 2ممبر بنچ ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ معطل نہیں کر سکتا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے استدعا کی کہ لارجر بنچ بنا کر کل مقدمے کی سماعت کا حکم دے دیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ لارجر بنچ بنانا ہمارا اختیار نہیں، اس معاملے میں ہم مفلوج ہیں،چیف جسٹس سے درخواست کریں ممکن ہے کیس آج ہی مقرر ہو جائے، ابھی فوری طور پر آج کا حکم نامہ دستخط کرکے بھیج دیتے ہیں۔
لطیف کھوسہ نے کہاکہ ایک سال سے چیئرمین پی ٹی آئی حفاظتی ضمانت کیلئے عدالتوں کے چکر لگ ارہے ہیں،معذرت خواہ ہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی آج پیش نہیں ہو سکے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ایف آئی آر معطلی کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو ذاتی طور پر آنے کی ضرورت نہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ میرے موکل کیخلاف 150سے زائد مقدمات درج ہیں،اگر عدالت نے حکم نہ کیا تو گرفتاری ہو سکتی ہے ، عدالت گرفتاری روکنے کا حکم دے، میرے موکل کو فوری ریلیف نہ ملا تو اس کی جان بھی جا سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آپ نے کوئی اور درخواست کرنی ہے تو چیف جسٹس سے کی جاسکتی ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہم چیف جسٹس پاکستان سے ملیں تو خبریں لگ جاتی ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چیف جسٹس سے اکیلے ملنے کے بجائے ایڈووکیٹ جنرل کو ساتھ لے جائیں۔









