بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دو صوبائی حکومتوں کو عمران نے خود توڑا، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی نااہل ہوگئے!تجزیہ

اسلام آباد(طارق محمود سمیر) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشیدکی جعلی ڈگری کیس میں نااہلی سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی آخری حکومت بھی انجام کو پہنچی ، پہلے دو صوبائی حکومتوںکو خود توڑا پھر وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویرالیاس عدالت کے ذریعے نااہل ہوئے اور اب گلگت بلتستان حکومت بھی جعلی ڈگری کی نذر ہوگئی۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید گزشتہ ایک سال کے دوران چیئرمین تحریک انصاف کا کھل کر ساتھ بھی دے رہے تھے بلکہ گلگت بلتستان کی سرکاری فورس کے ہمراہ زمان پارک میں پہرہ داری بھی سر انجام دیتے رہے ،کئی مرتبہ عمران خان کی گرفتاری میں رکاوٹ بھی بنے اور تصادم بھی ہوتے ہوتے رہ گیا ،اس وقت کے آئی جی گلگت بلتستان کو وفاقی حکومت نے تبدیل کیا تھا اور خالد خورشیدکو جی بی ہائوس میں نظر بند بھی کیا گیا تھا ،سردار تنویر الیاس اور خالد خورشید میں ایک نمایاں فرق یہ تھا کہ خالد خورشید مشکل ترین حالات کے باوجود اپنے کپتان کے ساتھ کھڑے رہے جبکہ سردار تنویر الیاس وزارت عظمیٰ کے منصب سے الگ ہوتے ہی کپتان اور ان کی ٹیم پر جو الزامات لگائے وہ عمران خان اور سسٹم کے لئے سبق آموز ہیں اب جبکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی نااہلی کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آ چکی ہیں ۔ پی ٹی آئی بہرصورت گلگت بلتستان کی حکومت کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دے گی جبکہ وفاقی حکومت بھی وہاں پر اتحادی حکومت بنانے کے لئے سر توڑ کوششیں کرے گی۔ علاوہ ازیں نیب آرڈیننس پر قائمقام صدرکی جانب سے دستخط ہو چکے ہیں اس سے قبل تو عمران خان کے لئے آئیڈیل صورتحال تھی ایک تو ریمانڈ چودہ دن کا تھا جبکہ اب اس آرڈیننس کے نافذ ہوتے ہی ریمانڈ 30دن کا ہوگیا ہے ، اس وقت190ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی تفتیش ہو رہی ہے ، عید سے قبل جو قیاس آرائیاں ہو رہی تھیںکہ عیدکے فوری بعد عمران خان کی گرفتاری متوقع ہے اب فیصلہ نیب نے کرنا ہے کہ انہیںکب گرفتارکرنا ہے تاہم عدالتوں سے عمران خان کو ریلیف مل رہا ہے۔ گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر عدم اعتمادکا اظہار کیا گیا تھا عدالت کی جانب سے محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا جس میں وقتی ریلیف تو عمران خان کو مل گیا ہے تاہم اس وقت اعصاب کی جنگ جاری ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں عمران خان کے لئے زمین کتنی تنگ ہوتی ہے ،دوسری جانب آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ،سٹاک مارکیٹ سمیت ڈالرزکی قیمتوں میںگراوٹ اور روپے کی مضبوطی سامنے آ رہی ہے،یقیناً اس سے مہنگائی بھی کم ہوگی، یہ مثبت اشارے ہیں جس سے حکومت کو اور سسٹم کو فائدہ ہوگا تاہم اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب اشرافیہ کے بجائے عام آدمی کو ریلیف ملے گا ،بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بوجھ غریب کے بجائے اشرافیہ پر ڈالا جائے تب فائدہ ہوگا ۔