سانپ ایک لمبا٬ لچکدار اور خطرناک جانور ہے- دنیا بھر میں سانپوں کی 2900 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے تقریباً 400 انتہائی زہریلی ہیں- سانپ چوہوں٬ پرندوں٬ چھوٹے ہرن٬ رینگنے والے جانوروں کے علاوہ انسان کو بھی اپنا شکار بناتے ہیں- سانپ اپنے سر کے قطر سے دو گنا زائد بڑے جانور کو نگلنے کی صلاحیت رکھتا ہے- تاہم ہم یہاں آج دنیا کے 6 سب سے خطرناک سانپوں کا ذکر کر رہے ہیں جو دیکھنے میں ہی خوفناک نہیں ہیں بلکہ انتہائی زہریلے بھی ہیں-
Jararaca
یہ لال آنکھوں والا سانپ برازیل میں پایا جاتا ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین زہریلوں سانپوں میں سے ایک ہے- 1902 اور 1945 کے دوران 52 فیصد یعنی 3446 کیسز اس سانپ کے کاٹنے کے سامنے آئے جن میں سے 25 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے-

Black Mamba
یہ سانپ اتنا خطرناک ہے کہ مسلسل 12 بار کاٹ سکتا ہے اور ہر کاٹنا نیوروٹوکسن کی خطرناک سطح سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کا ایک بار بھی کاٹنا 100 فیصد مہلک سانپ ہوتا ہے اور انسان کی موت 15 منٹ سے بھی کم وقت میں ہوسکتی ہے-

Tiger Keelback
یہ پانی کا سانپ جاپان اور پورے مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے- یہ ایک شرمیلا لیکن ناقابلِ یقین حد تک خطرناک سانپ ہے- یہ عجیب سانپ زہریلی مخلوق کو نہ صرف کھانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اپنے اندر ذخیرہ بھی کر لیتا ہے-

Indian Cobra
سانپوں کا ایک عام اور مہلک خاندان جو ہندوستان میں پایا جا سکتا ہے اسے عام طور پر ‘بگ فور’ کہا جاتا ہے اور یہ سب کے سب ہی مہلک ہوتے ہیں۔ یہ خطرناک سانپ جب کاٹتا ہے تو انسان کو فالج ہوسکتا ہے اور اسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے- اس کے علاوہ اسے دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے-

Common Krait
انڈیا کے ‘بگ فور’ کے ایک اور ممبر سے ملیں، کامن کریٹ آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا سر بہت چپٹا ہوتا ہے۔ دن کے وقت، اگر آپ سانپ کا سامنا کرتے ہیں، تو اس کے چھپنے اور سست ردعمل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم رات کے وقت، خطرہ محسوس کرتے ہی یہ کاٹنے سے نہیں ہچکچائے گا-

Saw Scaled Viper
بھارت٬ چین اور ایشیا ان خطرناک سانپوں کا گھر قرار دیا جاتا ہے- ان کے کاٹنے کے ساتھ ہی فوراً درد٬ سوجن اور منہ سے خون آنا شروع ہوجاتا ہے- اس کے بعد انسان کا بلڈ پریشر کم ہونے لگتا ہے اور دل کی دھڑکن سست ہوجاتی ہے- کاٹنے کے بعد اگلے 4 سے 5 ہفتوں تک انسان کے لیے فالج والی کیفیت رہتی ہے-










