اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنمائوں فیصل کریم کنڈی اورندیم افضل چن نے آئین سے غداری اور بغاوت کرنے پر عمران خان سمیت سابق کابینہ اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمائوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے ملک میں آئندہ قومی انتخابات کم ا ز کم ڈیڑھ سال سے پہلے نہیں ہو ں گے۔ وہ پیر کو پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ، انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے عمران خان نے بلاول اور آصف زرداری سے آین آر او مانگا ،فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی صورتحال کے جائزہ کے لئے کل بلاول ہاؤس کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے ۔
اجلاس میں میاں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات بارے بھی بریفنگ دی جائے گی، اجلاس میں قمر زمان کائرہ، شیری رحمان اور سید نوید قمر سمیت دیگر رہنما شرکت کریں گے ،فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے دوران عمران خان کے دوستوں نے رابطہ کیا اور کہا کہ شہباز شریف کو وزیراعظم نہ بنائیں، پیپلز پارٹی نے ایبسلوٹلی ناٹ کہا ،انہوں نے کہا کہ عمران خان عدم اعتما دسے بچنے کیلئے بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے این آر او مانگتے رہے مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کیلئے زبان دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا سوال ہے کہ خیبرپختونخوا ایم پی اے ہاسٹل سے قتل کا ملزم ایم پی اے فیصل زمان کیسے فرار ہوا، اس فرار کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ ٰاور صوبائی حکومت ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت اس مسئلے پر ایکشن لے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اقتدار کی خاطر بہت گر چکی ہے، الزامات اور گالیوں کے سوا کچھ نہیں ، عمران نیازی کو کڑوے سوالات کا سامنا کرنا ہو گا، عمران نیازی کو تلاشی بھی دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 27 مارچ سے پہلے رابطہ کیا، بعد میں بھی کرتے رہے۔ ، انہوں نے اگر استعفے واقعی دئیے ہیں تو پھر یہ لوگ اپنے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں اور دیگر سہولیات بھی واپس کریں،پی ٹی آئی کے بعض اراکین اسمبلی قائمہ کمیٹیوں کیلئے دی گئی سرکاری گاڑیوں کو اب بھی استعمال کر رہے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے جو بجلی پیدا کی وہ کہاں گئی،فرح خان کو دیگر مراعات کے علاوہ اڑھائی سو کنال زمین بھی دی گئی ، جب چوری ڈاکے لگیں گے تو ہم سوال تو کریں گے، پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ توشہ خانہ پر سوالات نہ کریں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی طرف سے اپوزیشن کو غدار قرار دینے سے مخالف غدار نہیں ہو جاتے درحقیقت خود عمران خان نے آئین سے بغاوت اور غداری کی جس کیلئے ان کے اور ان کے بعض وزرا کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہئے، پیپلز پارٹی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ غداری کا مقدمہ ریاست کو درج کرانا ہوتا ہے اس لئے فوری طور پر حکومت اس حوالہ سے مقدمہ درج کرکے مجرمان کو کٹہرے میں لائے اور قرار واقعی سزا دلائے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو عید سے پہلے وزیر خارجہ کا حلف اٹھائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے جو کچھ کیا ہے وہ جلد سامنے آ جائے گا، انہوں نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اقربا پروری کا بازار گرم کیا اور غیر قانونی طور پر سینکڑوں رشتے داروں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کیا۔
عمران خان یہ بھی بتائے کہ اس کے مخالف اور سہولت کار کون ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ الیکشن کیلئے کم از کم ڈیڑھ سال لگے گا۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ پی ٹی آئی اداروں پر حملے کر رہی ہے، جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے ، جو ادارہ آپ کو جب تک سپورٹ کرے تو وہ ٹھیک ہے ، اگر وہ ادارہ آئین اور قانون کے مطابق کام کرے تو آپ کو وہ برا لگنے لگ جاتا ہے ، پی ٹی آئی آج کل الیکشن کمیشن پر حملے کر رہی ہے۔
فارن فنڈنگ کیس تو پرانا ہے لیکن ناراضگی ڈسکہ الیکشن اور فیصل واڈا سے شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ماسوائے پی ٹی آئی کے سب الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہیں، ہمیں اس وقت آئین کے تحت احتساب کی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن پر جو حملے ہو رہے ہیں اس کی مذمت کرتے ہیں۔








