بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکہ سے دشمنی وارے میں نہیں،نئے سپہ سالار کی تعیناتی قواعد و ضوابط کے مطابق کریں گے،وزیراعظم

اسلام آباد(ایڈیٹر رپورٹنگ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک فوج کی سپہ سالار کی تعیناتی قواعد و ضوابط کے مطابق کریں گے۔منگل کو اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ پی ٹی آئی استعفے نہ دیتی، لیکن وہ اب استعفیٰ دے چکےہیں، اب قوائد کے مطابق فیصلہ ہو گا۔دورہ سعودی عرب سے متعلق انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی قیادت سے ملاقات ہو گی،سعودی عرب کے ساتھ مثالی تعلقات ہیں ،گزشتہ حکومت نے الزام تراشی سے دوست ملکوں کو ناراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں میں امن ہوگا،امریکہ سے دشمنی کسی صورت وارے میں نہیں، امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے ہیں ۔شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان ملک کا دیوالیہ کرگیا ہے،معیشت کی حالت انتہائی خراب ہے،پاکستان مشکل ترین موڑ پر کھڑا ہے ،ہمیں رونے دھونے کے بجائے آگے بڑھنا ہوگا، انتقام پر یقین نہیں رکھتے ،قانون اپنا رستہ خود بنائے گا،سڑکوں پر خونریزی اور افراتفری کی اجازت نہیں دینگے،قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف قانون اپنا رستہ خود بنائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ واضح تھا، این ایس سی کی اعلامیے کی پنچ لائن یہ تھی کی سازش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا،دھمکیاں تو بھارت ہمیں روز دیتا ہے ، ہم بھی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس اب جمہوری ہاؤس بن گیا ہے،گزشتہ حکومت سے ورثے میں بہت کچھ ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کا مارچ میں نام نہاد ریلیف دھوکہ تھا ، آج دس کلو آٹے کا تھیلا چار سو روپے میں مل رہا ہے ، یوٹیلٹی اسٹورز اور رمضان بازار میں چینی ستر روپے فی کلو مل رہی ہے ، گزشتہ حکومت کام کرسکتی تھی، لیکن اس نے صرف شور مچایا ،گزشتہ حکومت کی جانب سے ایندھن نہ منگوائے جانے کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہوئی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت کی حالت گھمبیر ہے حالت بیان نہیں کی جا سکتی ، لوڈشیڈنگ کی وجہ صرف وقت ایندھن منگوانا تھا،ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتقام لفظ ہمارے لغت میں نہیں ہے ، لیکن قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا آئینی حق ہے جوکہ وقت آنے پر ہونی چاہیے، پاک فوج کی سپہ سالار کی تعیناتی قواعد و ضوابط کے مطابق کریں گے۔ایک سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ میاں نواز شریف کو پانامہ کے بجائے اقامہ پر نکالا گیا ، گزشتہ دور حکومت میں احتساب کے نام پر انتقام لیا گیا ، سی پیک منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرایا ، رات کے بارہ بجے قرضہ کمیشن بنایا گیا جس کی رپورٹ آج تک نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ کراچی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں ،صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کراچی دھماکے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ایک اور سوال پرشہباز شریف نے کہاکہ احتسابی اور انتخابی اصلاحات کرینگے، تحریک انصاف کو بھی انتخابی اصلاحات کی دعوت دینگے ۔