اسلام آباد(طارق محمود سمیر) توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف کو زمان پارک سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کردیا ہے،عمران خان کو جس جیل منتقل کیا گیا وہاں وزیراعظم شہبازشریف ، مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز،ن لیگ کے مرکزی رہنما وسابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار مہتاب خان عباسی ، اے این پی کے مرحوم رہنما اعظم خان ہوتی اور تحریک انصاف کے وکیل رہنما حامد خان سمیت دیگر اہم شخصیات قائد رہ چکی ہیں جبکہ میاں محمد نوازشریف اٹک جیل کی بجائے اٹک قلعے میں قائد رہے جہاں ان کے خلاف طیارہ سازش اور ہیلی کاپٹر کیس چلاکر انہیں سزا سنائی گئی تھی ۔ تفصیلا ت کے مطابق روزنامہ ممتاز نے اپنے مصدقہ ذرائع کے ذریعے اٹک جیل میں قید رہنے والی سیاسی شخصیات کے حوالے سے جو معلومات حاصل کی ہیں ان کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کا مارشل لاء لگنے کے بعد سات ماہ تک اٹک جیل میں قید رہے اور وہاں انہیں کوئی خاص سہولیات میسر نہ تھیں حالانکہ وہ کمرکے درد کے مریض ہیں اس کے علاوہ میاں نوازشریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز جنہیں بارہ اکتوبر1999کو وزیراعظم ہائوس سے گرفتار کیا گیا تھا اور دو ماہ تک انہیں مری میں ایک فوجی بیرک میں قید رکھا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں ڈسٹرکٹ اٹک جیل منتقل کیا گیا،ایک سال ایک ماہ تک قید رہے ،اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں سردار مہتاب احمد خان عباسی ، اے این پی کے مرحوم رہنما اعظم ہوتی بھی قید رہے جبکہ ممتاز وکیل رہنما حامد خان بھی ججز بحالی تحریک میں جب گرفتار ہوئے تو انہیں اٹک جیل قید میں رکھا گیا اور اس کے علاوہ کئی اور وکلاء رہنما بھی اٹک جیل میں قید رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کو اٹک قلعے میں قید رکھا گیا تھا اور اٹک قلعے کے اندر ہی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی جہاں ان کے خلاف ہیلی کاپٹر کیس چلایا گیا اور اس میں انہیں سزا دی گئی تھی جبکہ میاں نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کی طویل عرصے بعد پرویز مشر ف کے دور میں پہلی ملاقات بھی اٹک قلعے میں کرائی گئی تھی اور یہ ملاقات کرانے پر خصوصی عدالت کے رجسٹرار راولپنڈی کے معروف وکیل چودھری محمد رشید کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جو تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چودھری کے چچا تھے نے پرویز مشرف کی ہدایت پر ملازمت سے برطرف کردیا تھا ۔ اٹک قلعے میں میاں نوازشریف کے ساتھ کافی سختیاں کی جاتی تھیں اور کسی کو ان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ، ان کے وکلاء اور قریبی رشتہ دار خصوصی عدالت میں ملاقاتیں کیا کرتے تھے ۔ علاوہ ازیں احتساب بیورو کے سابق چیئرمین سیف الرحمان بھی کچھ عرصہ اٹک قلعے میں قید رہے ۔
اٹک جیل میں عمران خان کے علاوہ کو ن کونسے سیاستدان قید رہ چکے ہیں؟








