بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہر چند سال بعد نااہلی و جلاوطنی سیاسی رہنمائوں کامقدر

اسلام آباد(طارق محمود سمیر)تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان کو بالآخر توشہ خانہ فوجداری کیس میں تین سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنا دی
گئی ہے اور اس کے ساتھ وہ پانچ سال کیلئے نااہل بھی ہوگئے ہیں ،توشہ خانہ کیس ملکی تاریخ کا اپنی نوعیت کا اہم اور عجیب وغریب کیس ہے تاہم عمران خان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کی طرف سے تحفے میں دی گئی قیمتی گھڑی کو جس انداز میں فروخت کیا وہ کسی طرح بھی قابل ستائش بات نہیں تھی لیکن قانون کی ایسی خلاف ورزی کی کہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا، قانون کے مطابق ہر رکن قومی اسمبلی الیکشن کمیشن میں اپنے سالانہ گوشوارے جمع کراتا ہے جس میں آمدن کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں لیکن جب عمران خان نے یہ گھڑی فروخت کی اور اس سے آمدن ہوئی اسے الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیا اور وہی غلطی ان کے لئے وبال جان بن گئی ، الیکشن کمیشن نے جب یہ ریفرنس فوجداری کارروائی کیلئے سیشن عدالت کی عدالت میں بھجوایا تھا تو یہ توقع کی جارہی تھی کہ 120دنوں میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا لیکن عمران خان اور ان کے وکلاء نے خوب تاخیری حربے اختیارکئے اور کیس کو چلنے نہ دیا ، پہلے ہی اس کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی اور ظفر اقبال کو اس وقت تبدیل کردیا گیا جب ان کی اہلیہ کی ایک مبینہ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور ان کی جگہ ہمایوں خان دلاور کو ایڈیشنل سیشن جج تعینات کردیا گیا جن کے پاس اس کیس کی سماعت ہوئی ، عمران خان صرف چار مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے ان کی پہلی پیسی 9مئی کو نیب کے کیس میں گرفتاری کے بعد ممکن ہوئی اور پہلا قانونی تقاضا پورا کیا گیا اور عمران خان پر 10مئی کو فردجرم عائد کی گئی ،عمران خان کے وکلاء کبھی ہائیکورٹ تو کبھی سپریم کورٹ میں جاتے رہے تاکہ کیس کو مزید تاخیر کا شکار بنایا جاسکے لیکن جج ہمایوں دلاور نے کیس کی تکمیل یقینی بنائی اور سرکاری وکلاء نے بھی اپنے دلائل دیئے ، اس معاملے میں ایک تنازع یہ کھڑا کیا جارہا ہے کہ عمران خان کی طرف سے دیئے گئے چار گواہوں کو بیانات دینے کیلئے عدالت میں نہیں بلایا گیا اور جج ہمایوں خان دلاور کو متعصب جج قرار دیتے رہے اور ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے اکائونٹ سے ایک پوسٹ عمران خان کے خلاف لگائی گئی جب اس کی ایف آئی اے سے تحقیقات کرائی گئیں اور اس کی رپورٹ بھی گزشتہ روز ہائیکورٹ میں پیش کی گئی تو یہ الزام درست ثابت نہیں ہوا، جہاں تک گواہوں کو عدالت میں پیش نہ ہونے کے الزام کا تعلق ہے اس حوالے سے دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ جس دن ٹرائل کورٹ کے جج یہ کہتے رہے کہ بروقت گواہوں کے نام دیئے جائیں تو تحریک انصاف کے وکلاء نے باضابطہ نام دینے میں کچھ تاخیر کی ، آج فیصلہ آنے سے قبل جب تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کیا کہ ابھی ساڑھے بارہ بجے ہیں اور گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ گواہوں کو ڈیڑھ بجے تک پیش کردیا جائے تو وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ سارے گواہ اسلام آباد میں موجود نہیں ہیں ، کچھ گواہ کراچی میں ہیں لہذا ہمیں آئندہ ہفتے تک کا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے یہ استدعا مسترد کردی ، عمران خان ہوں یا نوازشریف ہر چند سال بعد کوئی نہ کوئی بڑا سیاسی رہنما ایسی لڑائی کربیٹھتا ہے کہ اسے نہ صرف جیل جانا پڑجاتا ہے بلکہ نااہلی اور جلاوطنی بھی اس کا مقدر بنتی ہے ، 2017-18میں اسی طرح کی صورتحال کا سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو سامنا کرنا پڑا کیونکہ نوازشریف کی سابق اسٹیبشلمنٹ سے لڑائی ہوچکی تھی اور اختلافات اتنے بڑھے کہ انہیں پانامہ کیس میں بلا کر اقامہ میں سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر نااہل قراردیا کہ نوازشریف بطور رکن قومی اسمبلی اپنے بیٹے کی کمپنی سے جو تنخواہ لے سکتے تھے وہ نہیں لی اور نہ ہی اسے الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں ظاہر کیا ،آج وہی مکافات عمل عمران خان کیساتھ ہوا ہے ، اس وقت عمران خان 28جولائی 2017کو بنی گالہ میں موجودہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ،سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین ، چودھری اعجاز اور دیگر رہنمائوں کے ہمراہ مٹھائی کھا رہے تھے اور آج عطاتاڑ ہوں یا ن لیگ کے دیگر سرگرم رہنما وہ مٹھائیاں کھا رہے ہیں کس بھی سیاسی رہنما کی نااہلی اور سزا پر مٹھائیاں کھانا اور کھانا کوئی اچھی روایت نہیں ہے جب یوسف رضا گیلانی نااہل ہوئے تو میاں نوازشریف سمیت ن لیگ کے دیگر رہنمائوں نے مٹھائیاں بانٹی تھیں اور آج کل پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک ساتھ ہیں ۔عمران خان اور تحریک انصاف کو سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارم پر پاکستان کی سب سے مقبول پارٹی قرار دیا جاتا ہے ،9مئی کو جب عمران خان نیب کے کیس میں گرفتار ہوئے تو پورے پاکستان میں احتجاج ہوا حتی کہ جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہائوس سمیت دیگر فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے جن کے کیسز چل رہے ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اگر آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے 9مئی سے پہلے تھے تو پھر انہیں توشہ خانہ کیس میں سزا ہونے کے باوجود ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے احتجاج نہ ہونا کئی سوالات اٹھاتا ہے ، ایک جواز تو یہ پیش کیا جارہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے بہت سختیاں کی ہوئی ہیں اور 9مئی کے بعد تحریک انصاف کئی گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے ، دو الگ پارٹیاں بھی بن چکی ہیں ، 200سے زائد ارکان پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ چکے ہیں لہذا کارکنوں کو باہر نکالنے میں بھی اس لئے مشکلات ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی پر امن احتجاج سے آگے بڑھ کر کوئی سیاسی جماعت احتجاج کرتی ہے تو پھر سارے معاملات سیاسی جماعتوں سے نکل کر اداروں کے پاس چلے جاتے ہیں تو اس وقت بھی شاید ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی جیل کی سختیاں کس حد تک برداشت کرسکتے ہیں ، وہ جب وزیراعظم کے طور پر امریکا گئے تھے اور وہاں سے ورلڈ کپ جیت کر آنے کی خوشخبری سنائی اور نوازشریف کا جیل میں اے سی بند کرنے کے بیانات دیئے اب ایسی ہی صورتحال کا انہیں سامنا ہے ،اگر وہ چند ماہ جیل کی سختیاں برداشت کرگئے تو ان کی مقبولیت نہ صرف برقرار رہ سکتی ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور سختیاں برداشت نہ کرسکے اور اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کر جلا وطنی کو ترجیح دی تو پھر صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی ۔
سیاسی رہنماکامقدر