بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دوسروں کو چور کہنے والا آج خود جیل میں ہے، وزیراعظم شہبازشریف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے توشہ خانے میں موجود تحائف کو نیلام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحائف سے حاصل رقم غریب اور لاچار افراد پر خرچ ہوگی۔
پی بی اے، اے پی این ایس اور سی پی این اے کے وفود سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دوست ممالک کے ساتھ گزشتہ 4 سال میں تعلقات کو خراب کیا گیا، جب اقتدار ملا تو حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، بدقسمتی سے 4 سالہ دور میں ملک کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ میں دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو بحال کیا، سابق دور میں تکبر اور غرور نے ملک کو گھیرا ہوا تھا، سیلاب، مہنگائی اور خراب معیشت جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
چیئرمین پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ دوسروں کو چور کہنے والا آج خود جیل میں ہے، ان کی گرفتاری مکافات عمل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہر قسم کی سبسڈی دینے سے روک دیا ہے، اللہ نے پاکستان کو بہت سے وسائل سے نوازا مگر سوچ بن گئی ہے کہ کام نہیں کرنا، پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے اور قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کہتے ہیں آپ منصوبے لے کر آئیں ہم سرمایہ کاری کریں گے، قوم میں اس قدر زہر گھول دیا گیا ہے کہ اس کو ٹھیک کرنا آسان کام نہیں، کل ہم اسمبلی کی تحلیل کی سمری صدرِ مملکت کو بھیج دیں گے، ہم سب کا مکمل اتفاق ہے کہ الیکشن جتنی جلدی ہو سکے کروائے جائیں۔

ادھرنجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ اُن کے مطابق نگراں وزیراعظم پارٹی سے نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سمری کل صدر مملکت کو بھیج دوں گا، اگر انہوں نے سمری پر دستخط نہ کیے تو 48 گھنٹوں میں اسمبلی از خود تحلیل ہو جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ اسمبلی تحلیل کرنے سمری صدر کو بھیجنے کے بعد اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت کا آغاز ہو گا۔ ایک دو روز میں نگراں وزیراعظم کا نام فائنل ہو جائے گا۔ کوشش کریں گے کہ ایسے شخص کا نام سامنے آئے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

شہباز شریف نے کہا کہ ابھی تک نگراں وزیراعظم کے لیے کوئی نام فائنل نہیں ہوا۔ اس حوالے سے نواز شریف سے بھی مشاورت ہو رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ نئی مردم شماری کے نتائج کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے کر جانا آئینی ضرورت تھی، اب انتخابات کی طرف بڑھنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہاکہ انتخابات میں عوام جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ہمیں قبول ہو گا۔ ن لیگ کی حکومت بننے کی صورت میں ہمارے امیدوار نواز شریف ہوں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ بات 30 سال سے چل رہی ہے کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں اور مجھے پسند کیا جاتا ہے۔ مگر میں نے اصول سے ہٹ کر کبھی کوئی بات نہیں کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نا چاہتے ہوئے بھی بات چیت کے لیے کمیٹی بنائی، بات چیت جب حتمی مراحل میں داخل ہوئی تو عمران خان نے ہٹ دھرمی دکھائی، اگر ایسے نہ کیا جاتا تو اسی سال میں انتخابات ہو جانے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات کا معاملہ کئی دہائیوں کا ہے، مگر وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب بحیثیت پاکستانی اس ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملکر آگے بڑھیں۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہ کر ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، ایسے اقدامات کرنے چاہییں جس کا پاکستان کو فائدہ ہو اور ملک کے عوام خوشحال ہوں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ایس آئی ایف سی‘ پاکستان کی معاشی بحالی کا پروگرام ہے جس میں تمام حکومتیں اور پاک فوج بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں پاکستانی قوم ایک ترقی یافتہ اور باوقار قوم ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات ریاست کے خلاف بغاوت تھی، پاک فوج کے سپہ سالار کے خلاف ایک جال بنا گیا تھا، اس دن کو کبھی بھلایا نہیں کیا جا سکتا۔

شہباز شریف نے کہاکہ ہم کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرنا چاہتے، عمران خان کے خلاف کیسز متعلقہ اداروں نے بنائے ہیں۔

انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص کہتا تھا کہ سب کو جیلوں بھیجوں گا، کسی کو چھوڑوں گا نہیں، یہ شخص کہتا تھا کہ اگر کھانا گھر سے ہی منگوانا ہے تو جیلیں کس لیے بنائی گئی ہیں۔