بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فنِ تعمیر کا شاہکار نمونہ غلاطہ ٹاور، صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی موجود

استنبول کا غلاطہ ٹاور جو507 صدی عیسوی میں تعمیر کیا گیا۔ اسے رومی حکومت نے بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے لائٹ ہائوس کے طور پر تعمیر کیا تھا، جو اپنے زمانے کا سب سے بلند ٹاور کہلاتا تھا۔

گولڈن ہارن کے شمالی ساحل پر واقع اس قدیم اور طویل ٹاور سے متعلق مؤرخین کا خیال ہے کہ پَروں کے ذریعے فضا میں اڑنے کا دوسرا کامیاب تجربہ بھی یہیں ہوا تھا۔

مورخین کے مطابق، عثمانی خلیفہ، سلطان مراد چہارم کے دَور میں ایک مسلمان مہم جو ’’خدافین احمد‘‘ نے سترہویں صدی عیسوی میں اسی بُرج سے پَروں کے ذریعے باسفورس پر پرواز کی تھی۔

 وہ تقریباً 8میل کا فاصلہ طے کرتا ہوا باسفورس کے ایشیائی ساحل ’’اسکودار‘‘ سے ہوتا ہوا ’’اسکوتاری‘‘ تک گیا تھا۔ قبل ازیں، پَر لگا کر ہوا میں اڑنے کا پہلا تجربہ اسماعیل بن حماد نامی شخص نے کیا تھا، جو ناکام رہا تھا۔

اگرچہ اس کے بعد بھی کئی تجربات ہوتے رہے۔ تاہم، غلاطہ ٹاور سے مسلمان مہم جو خدا فین احمد کا تجربہ کام رہا۔ اس کے بنائے ہوئے وہ پردہ نما پَر آج بھی اسی غلاطہ ٹاور کی آٹھویں منزل پر موجود ہیں۔ دس منزلہ غلاطہ ٹاور پر نصب لفٹ 7 ویں منزل تک جاتی ہے۔

دسویں منزل پر پہنچنے کے لیے سیڑھیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ غلاطہ ٹاور پر ایک تختی آویزاں ہے، جس پر اس کی مکمل تاریخ بھی درج ہے۔

 فنِ تعمیر کا یہ شاہکار نمونہ پندرہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے۔