راولاکوٹ(آصف اشرف)حریت رہنما یاسین ملک کو سزا دلوانے کی سازش یا کوئی اور مذموم عزائم، مودی سرکار نے شہید کشمیر مقبول بٹ کو پھانسی کی سزا سنانے والے جج کے قتل کا مقدمہ 34 بعد ری اوپن کر دیا۔تفصیلات کےمطابق ریاستی ہائی کورٹ کے جج نیل کھنٹہ گنجو نے مقبول بٹ کو پھانسی کی سزا سنائی تھی ،اس جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد 4 نومبر 1989 میں سری نگر شہر میں جموں کشمیر لیبریشن فرنٹ کے حریت پسندوں نے واصل جہنم کر دیا تھا تاہم 34 سال بعد بھارتی حکومت نے اس مقدمہ کو ری اوپن کر دیا ہے، جس کا مقصد مببینہ طور پر گرفتار حریت رہنما یاسین ملک کو سزا دلوانا ہے، اس سے پہلے یاسین ملک کے خلاف بھارتی وزیر داخلہ مفتی سعید مرحوم کی بیٹی ڈاکٹر ربیعہ سعید کے اغواء کا مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس جسٹس نیل کنٹھ گنجو کے قتل سے متعلق کوئی بھی جانکاری دستیاب ہے تو وہ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اطلاع دینے والوں کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔ لوگوں کے لئے فون نمبر اور ای میل ایڈریس بھی دستیاب کر دیا گیا ہے۔
یاسین ملک کو سزا دلوانے کی سازش ، مودی سرکار نے جسٹس نیل کھنٹہ گنجو کے قتل کا مقدمہ 34 بعد ری اوپن کر دیا








